نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 78 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 78

حقیقت واضح کرے۔پس اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے صحابہ کی ( خاص رنگ میں ) تربیت فرمائی۔اور اس کے ذریعہ ثابت کر دیا کہ وہ رب العلمین ہے۔پھر اپنی صفت رحمانیت کے ذریعہ جو بغیر کسی عامل کے عمل کے ظاہر ہوتی ہے ان پر اپنے انعامات کو انتہا تک پہنچایا اور اس فیض کے ذریعہ ثابت کر دیا کہ وہ ارحم الرحمین ہے۔پھر اس نے اپنی صفت رحیمیت کے ذریعہ ان کے عمل کے وقت میں انہیں اپنی حمایت کے ہاتھ دکھائے اور اپنی مہربانی سے روح القدس کے ساتھ ان کی مدد کی۔ان کو نفوس مطمئنہ عطا فرمائے اور ان پر دائمی سکینت نازل کی۔پھر اس نے ارادہ کیا کہ انہیں اپنی صفت مالک یوم الدین کا نمونہ بھی دکھائے تو اُس نے انہیں حکومت اور خلافت بخشی اور ان کے دشمنوں کو ( پہلے ) بلاک ہونے والوں کے ساتھ ملا دیا۔کافروں کو تباہ کردیا اور انہیں پوری طرح ملیا میٹ کر دیا۔پھر اس نے حشر کا نمونہ دکھایا اور ( روحانی لحاظ سے ) قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں کو باہر نکالا پس وہ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہو گئے۔اور اس کی طرف فرداً فرداً اور گروہ در گروہ دوڑ پڑے۔پس صحابہ نے مردوں کو زندہ ہوتے دیکھا، اور امساک باراں کے بعد موسلا دھار بارش دیکھی اور اس زمانہ کا نام یوم الدین رکھا گیا۔کیونکہ اس ( زمانہ ) میں حق ظاہر ہو گیا اور کافروں میں سے فوج در فوج لوگ دین (اسلام) میں داخل ہوئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ امت محمدیہ) کے آخری دور میں بھی ان صفات کا نمونہ دکھائے ، تا بلحاظ کیفیت ملت کا آخری حصّہ پہلے حصہ کی طرح ہو جائے اور تا گذشتہ اُمتوں کے ساتھ (اس اُمت کی ) مشابہت پوری ہو جائے۔جس کی طرف اس سورت میں اشارہ کیا گیا ہے یعنی ارشاد باری تعالی صراط الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں۔پس اس آیت کے الفاظ پر غور کریں۔حمد مسیح موعود کے زمانہ کا نام اس لئے بھی یوم الدین رکھا گیا کہ یہ ایسا زمانہ ہے جس میں دین کو زندہ کیا جائے گا اور لوگوں کو اس امر پر مجتمع کیا جائے گا کہ وہ ( دلی) یقین کے ساتھ آگے بڑھیں۔اور اس میں نہ کوئی شبہ ہے اور نہ ہی (کسی کو) کچھ اختلاف ( ہوسکتا) ہے کہ 78