نُورِ ہدایت — Page 841
زمین کو کیا ہو گیا۔پھر ا گر حقیقتا یہی بات سچ ہے کہ زمین نہایت شد ید زلزلوں کے ساتھ زیروز بر ہو جائے گی تو انسان کہاں ہوگا جو زمین سے سوال کرے گا۔وہ تو پہلے ہی زلزلہ کے ساتھ زاویہ عدم میں مخفی ہو جائے گا۔علوم حسیہ کا تو کسی طرح سے انکار نہیں ہوسکتا۔پس ایسے معنی کرنا جو ببداہت باطل اور قرائن موجودہ کے مخالف ہوں گویا اسلام سے ہنسی کرانا اور مخالفین کو اعتراض کے لئے موقعہ دینا ہے۔پس واقعی اور حقیقی معنی یہی ہیں جو ابھی ہم نے بیان کئے۔اب ظاہر ہے کہ یہ تغیرات اور فتن اور زلازل ہمارے زمانہ میں قوم نصاری سے ہی ظہور میں آئے ہیں جن کی نظیر دنیا میں کبھی نہیں پائی گئی۔پس یہ ایک دوسری دلیل اس بات پر ہے کہ یہی قوم وہ آخری قوم ہے جس کے ہاتھ سے طرح طرح کے فتنوں کا پھیلنا مقدر تھا جس نے دنیا میں طرح طرح کے ساحرانہ کام دکھلائے اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دنبال نبوت کا دعویٰ کرے گا اور نیز خدائی کا دعوی بھی اس سے ظہور میں آئے گا۔وہ دونوں باتیں اس قوم سے ظہور میں آگئیں۔نبوت کا دعویٰ اِس طرح پر کہ اس قوم کے پادریوں نے نبیوں کی کتابوں میں بڑی گستاخی سے دخل بیجا کیا اور ایسی بیباکانہ مداخلت کی کہ گویا وہ آپ ہی نبی ہیں جس طرف چاہا اُن کی عبارات کو پھیر لیا اور اپنے مدعا کے موافق شرحیں لکھیں اور بیبا کی سے ہر یک جگہ مفتر یا نہ دخل دیا۔موجود کو چھپایا اور معدوم کو ظاہر کیا۔اور دعویٰ کے ساتھ ایسے محرف طور پر معنے کئے کہ گویا اُن پر وحی نازل ہوئی اور وہ نبی ہیں۔چنانچہ ہمیشہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ مناظرات اور مباحثات کے وقت ایسے بیہودہ اور دور از صدق جواب عمدا دیتے ہیں کہ گویا وہ ایک نئی انجیل بنا رہے ہیں۔ایسا ہی اُن کی تالیفات بھی کسی نے عیسی اور نئی انجیل کی طرف رہبری کر رہی ہیں اور وہ جھوٹ بولنے کے وقت ذرہ ڈرتے نہیں اور چالا کی کی راہ سے کروڑ با کتابیں اپنے اس کا ذبانہ دعوے کے متعلق بنا ڈالیں گویا وہ دیکھ آئے ہیں کہ حضرت عیسی خدائی کی کرسی پر بیٹھے ہیں۔اور مھدائی کا اس طرح پر دعویٰ کیا کہ خدائی کاموں میں حد سے زیادہ دخل دے دیا اور چاہا کہ زمین و آسمان میں کوئی بھی ایسا بھید مخفی نہ رہے جو وہ اُس کی تہ تک نہ پہنچ جائیں اور ارادہ کیا کہ خدا تعالیٰ کے 841