نُورِ ہدایت — Page 817
بھی اپنے قدم کو نہیں روکنا۔گویا فَإِذَا فَرَغْمتَ فَانْصَب میں رسول کریم علیہ کے غیر متناہی سفر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ اپنے کام میں بڑھتے چلے جائیں گے اور کوئی وقت ایسا نہیں آئے گا جب یہ کہا جا سکے کہ محمد رسول اللہ علیم اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے اور اب وہ اپنے کام سے فارغ ہو گئے ہیں۔اگر وہ ایک کام سے فارغ ہو جائیں گے تو دوسرا کام شروع کر دیں گے۔وَإلى رَبِّكَ فَارْغَبُ اور تو اپنے رب کی طرف متوجہ ہو۔فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی لیکن جب تم اس طرح چوٹیوں پر چڑھتے چلے آؤ گے تو دیکھو گے کہ ہم آگے بیٹھے ہیں۔ہم بلندیوں پر رہتے ہیں اور وہی ہمارے پاس آ سکتا ہے جو غیر محدود جد و جہد سے کام لینے والا ہو۔اس لئے ہماری ملاقات کے راستہ میں کسی مقام پر ٹھہرنا نہیں بلکہ بڑھتے چلے آنا۔ماخوذ از تفسير كبير زير تفسير سورة الانشراح) 817