نُورِ ہدایت — Page 811
کرتی چلی جاتی ہے کوئی روک اس کی اشاعت میں حائل نہیں ہوتی۔وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ اور تیرے ذکر کو ہم نے بلند کر دیا۔جب انبیاء علیہم السلام دعوی کرتے ہیں تو سارے ملک میں ان کے خلاف جوش پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں یہ تعلیم جو اُن کی طرف سے پیش کی جارہی ہے ایسی ہے کہ ایک دن ضرور غالب آ جائے گی۔یہی حال سچے دنیوی علوم کا ہوتا ہے کہ جب کوئی نئی تحقیق لوگوں کے سامنے پیش کی جائے تو لوگ اس کی ضرور مخالفت کرتے ہیں۔کیونکہ ان کے دلوں میں یہ ڈر پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر ہم نے مخالفت نہ کی تو ہمارا نظریہ اس کے مقابلہ میں باطل ہو جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعد میں صداقت کو بہر حال تسلیم کر لیا جاتا ہے۔مگر ابتدا میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگ مخالفت کرتے ہیں اور ہر قسم کی تدابیر سے سچائی کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسی مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ہم نے تیر از کر بلند کر دیا ہے۔یہاں ذکر کا بلند ہونا ماننے کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ دنیا میں ہر جگہ تیر اذکر ہو رہا ہے چاہے اچھے رنگ میں ہو یا برے رنگ میں۔تعریف کے رنگ میں ہو یا مذمت کے رنگ میں۔بہر حال ہر مجلس اور ہر محفل اور ہر گھر اور ہر خاندان میں تیرا نام بلند ہو رہا ہے۔اور ایک شور ہے جو تیری وجہ سے برپا ہے۔غرض رسول کریم ملی ایم کی مخالفت کا ایک سلسلہ تھا جو ہر مجلس اور ہر خاندان میں جاری تھا۔جہاں بھی دیکھو یہی ذکر ہوتا تھا کہ محمد عبای شمالی نے بہت بڑا فتنہ پیدا کر دیا ہے۔اس فتنہ کے سد باب کے لئے اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔مخالفت کا یہ جوش و خروش اور رسول کریم علی ایم کی تذلیل کی یہ کوششیں ثبوت تھیں اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعلیم میں ایسی کشش رکھی تھی کہ دنیا سمجھتی تھی اس کا ہمارے ساتھ ٹکراؤ ہماری تباہی اور بربادی کا موجب بننے والا ہے۔۔۔۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ہمارا تجھ پر کتنا بڑا احسان ہے کہ آج ہر مجلس میں تیر از کر ہورہا ہے۔811