نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 810 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 810

کے لئے تیار ہیں۔پس وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي انْقَضَ ظَهْرَكَ کے معنے یہ ہیں کہ وہ بوجھ جس نے تیری کمر کو توڑ دیا تھاوہ ہم نے خود اٹھا لیا۔تو نے اس کام کی طرف نگاہ کی اور حیران ہو کر کہا کہ میں یہ کام کیونکر کروں گا۔خدا نے ایک دن میں ہی تجھے پانچ وزیر دے دیئے۔ابوبکر کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑا کر دیا۔خدیجہ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑا کر دیا علی کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑا کر دیا۔زید کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑا کر دیا۔ورقہ بن نوفل کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑا کر دیا اور اس طرح وہ بوجھ جو تجھ اکیلے پر تھا وہ ان سب لوگوں نے اٹھالیا۔اس آیت کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے تجھے ایسی تعلیم دی ہے جو آپ ہی آپ دلوں کو موہ لیتی ہے۔بعض تعلیمیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر اچھی ہوتی ہیں مگر وہ ایسی فلسفیانہ باتوں پر ر مشتمل ہوتی ہیں کہ ان کا سمجھنا لوگوں کے لئے بڑا مشکل ہوتا ہے۔وہی تعلیم ملک میں فوری طور پر مقبولیت حاصل کر سکتی ہے جو سمجھنے میں آسان ہو اور جس میں ہر فطرت کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔پس وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ میں ایک یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ تجھے اپنی تعلیم کا پھیلانا بڑا مشکل نظر آتا تھا مگر ہم نے اسے اس قدر دلکش اور اس قدر جاذبیت رکھنے والی بنایا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ تیری طرف کچھچے چلے آتے ہیں۔جو بھی پاکیزہ فطرت رکھنے والا انسان اس تعلیم کو سنتا ہے فوراً کہہ اٹھتا ہے آمَنَّا وَصَدَّقْنَا۔میں ایمان لایا اور میں اس کی صداقت کو قبول کرتا ہوں۔غرض فرماتا ہے وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ اے محمد رسول اللہ ام کیا ہم نے تجھے یہ سامان نہیں بخشا کہ ایک طرف تجھے ہم نے ایسے ساتھی دیئے جنہوں نے تیرا بوجھ اٹھالیا اور دوسری طرف ہم نے تجھے ایسی تعلیم دی جو خود بخود فطرت کے اندر نفوذ 810