نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 800 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 800

کامل راہنمائی دنیا کی ایسا ہی انسان کر سکتا ہے جس کا سینہ خدا تعالیٰ نے شیطان کے اثر سے محفوظ کر دیا ہو۔تیسرے معنے شرح کے سمجھانے کے ہیں۔ان معنوں کی رُو سے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے تیرے دل میں حقائق اشیاء اتار دیے اور خود تیرا استاد بن کر تجھ کو سمجھایا۔یعنی محمد رسول اللہ یا تعلیم کو سمجھانے اور حقیقت بتانے والا خود اللہ تعالیٰ تھا۔الم نشرح لك صدرك کے ایک اور معنے بھی ہیں جو رسول کریم علیم کی عظمت اور آپ کی بلندی درجات کا ایک کھلا ثبوت ہیں اور وہ معنے یہ ہیں کہ دنیا میں دو قسم کے علوم ہوتے ہیں۔ایک علم خارجی ہوتا ہے اور ایک علم اندرونی ہوتا ہے۔یکمیل علم کا انحصار انہیں دوملیکوں پر ہوتا ہے۔اور یہ علم النفس کا ایک بہت بڑا نکتہ ہے جس سے بہت سے لوگ ناواقف ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ علم خارجی ہی اصل علم ہے۔حالانکہ علم خارجی بہت محدود علم ہوتا ہے اور وہ مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ علم اندرونی بھی شامل نہ ہو۔پس فرماتا ہے الم نشرح لك صدرك اے محمد عالم کیا تو اس بات کا گواہ نہیں کہ ہم نے تیرے اندر یہ مادہ پیدا کیا ہے کہ جب تجھ پر ایک آیت نازل ہوتی ہے تو اس کے تمام مالہ اور مَا عَلَیہ تیرے سامنے آجاتے ہیں۔جو حکم بھی نازل ہوتا ہے اس کی باریکیاں اور وسعتیں سب تیرے ذہن میں مستحضر ہو جاتی ہیں اور تُو فوراً سمجھ جاتا ہے کہ کن مواقع پر یہ حکم چسپاں ہوتا ہے اور کن مواقع پر چسپاں نہیں ہوتا۔غرض رسول کریم ملایم کو اللہ تعالیٰ نے علم خارجی کے علاوہ علم اندرونی بھی بخشا تھا اور آلخر نَشْرَحْ لَكَ صَدرَكَ کے معنے یہی ہیں کہ کیا علاوہ قرآن شریف کے ہم نے تجھے علم اندرونی نہیں بخشا اور تیرے سینہ کو کھول نہیں دیا ؟ شرح کے معنے پھاڑنے اور ہل چلانے کے بھی ہوتے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ اے محمد رسول اللہ صلیم کیا ہم نے تیرے سینہ میں قرآن اُگانے کے لئے ہل چلائے ہیں یا نہیں ؟ جس طرح مادی اشیاء کے لئے مناسب حال زمین کو تلاش کیا جاتا 800