نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 799 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 799

تھی۔اور وہ امور سماویہ جو امور غیبیہ پر مشتمل تھے ان پر بڑا ز بر دست یقین بخشا تھا۔اور یہ دونوں امر بار بار اس طرح ظاہر ہو چکے تھے کہ آپ کے مخالفوں کو بھی ان کے انکار کی جرأت نہیں ہو سکتی تھی۔اور اگر یہ تینوں باتیں کسی شخص میں پائی جائیں تو اول تو یہ اس کی سچائی کا ثبوت ہوتی ہیں۔دوسرے یہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہیں کہ وہ شخص ضرور کوئی نیک تغیر دنیا میں پیدا کر کے چھوڑے گا۔دوسرے معنے سینہ کھلنے کے یقین کامل کے کئے گئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی صداقت پر جو یقین تھا وہ مخفی امر نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام تو دعا کرتے ہیں کہ رب اشرح لي صدارتی (طه 26) اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ خدایا مجھے وہ یقین حاصل ہو جائے جس کے بعد میں یہ سمجھوں کہ اگر یہ کام نہ ہوا تو میرا قصور ہے لیکن اس کے مقابلہ میں رسول کریم علیم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے یہ چیز تجھے دے دی ہے اور نہ صرف تجھے دے دی ہے بلکہ تو بھی جانتا ہے کہ ہم یہ چیز تجھے دے چکے ہیں۔یعنی ایسے رنگ میں یہ چیز تجھے دی ہے کہ تجھ پر بھی حقیقت پوری طرح منکشف ہو چکی ہے۔رسول کریم ملی کی ساری زندگی اس آیت کی صداقت کا ثبوت بہم پہنچاتی ہے۔شروع سے لے کر آخر تک آپ کی زندگی سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ اسلام اور اس کی تعلیم کے لئے کھول دیا تھا اور وہ آخر تک کھلا رہا۔دوسرے معنے شرح کے محفوظ رکھنے کے ہوتے ہیں۔ان معنوں کی رُو سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ کیا ہم نے تیرے سینہ کو تیرے لئے محفوظ نہیں کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تیرے فائدہ کے لئے (لک کالام فائدہ کے معنے دیتا ہے ) تیرا سینہ کھول دیا ہے یعنی وہ روحانی امور جو تیرے لئے نفع بخش ہوتے ہیں ان کے قبول کرنے کے لئے ہم نے تیرا سینہ محفوظ کر دیا ہے۔یعنی اس کے خلاف بدی کی کوئی تحریک تیرے سینہ میں داخل نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تیرا سینہ نیکی کے لئے محفوظ رہنا چاہئے۔799