نُورِ ہدایت — Page 790
خوب چرچا کرو۔یا خدا تعالیٰ نے جو نعمتیں تجھے دی ہیں ان سے خود بھی فائدہ اٹھاؤ اور اپنے جسم پر ان کے آثار کو ظاہر کرو۔اور کچھ حصہ صدقہ وخیرات کے طور پر لوگوں میں بھی تقسیم کرو۔اس سورۃ کے آخر میں جو تین باتیں بیان کی گئیں ہیں۔یہ پہلی بیان کردہ تین باتوں کے مقابل میں ہیں۔پہلے فرمایا تھا۔(1) أَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمَا فَأَوَى۔(2) وَوَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَى۔(3) وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَاغْلی تم یتیم تھے ہم نے تمہیں پناہ دی۔تم ہماری محبت اور اپنی قوم کی نجات کے طالب تھے ہم نے تمہیں اپنی محبت بھی عطا کر دی اور قوم کی نجات کا سامان بھی عطا کر دیا۔اسی طرح تم روحانی اور جسمانی بیتامی سے گھرے ہوئے تھے ہم نے دونوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا سامان بھی تجھے دے دیا۔اب تیرا بھی فرض ہے کہ تو یتامی سے ایسا سلوک نہ کر جو اُن کی طاقتوں کو توڑنے والا ہو۔تو ہماری محبت کے سائلوں کو جو تیرے دروازہ پر آئیں کبھی مایوس مت لوٹا بلکہ جس طرح ہم نے تیری مراد میں پوری کی ہیں تو ان کی مرادوں کو پورا کر۔اور پھر یہ بھی دیکھ کہ ہم نے تجھے عائل بنایا تھا پھر مجھے غنی کر دیا۔اب تمہارا کام یہ ہونا چاہئے کہ ہم نے تجھ پر جو احسانات کئے ہیں ان کا تو شکر ادا کر۔ہماری نعمتوں سے خود بھی فائدہ اٹھا اور لوگوں میں بھی ان نعماء کوتقسیم کر۔یہ اسلامی تعلیم نہیں ہے کہ انسان کو اگر کوئی نعمت ملے تو وہ اسے رد کر دے اور اس سے فائدہ نہ اٹھائے۔بدقسمتی سے مسلمانوں کے ایک طبقہ میں روحانیت کا مفہوم نہ سمجھنے کے نتیجہ میں یہ خیال پیدا ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعماء کا استعمال روحانیت کے خلاف ہے۔اچھا کھانا کھانا یا اچھا کپڑا پہنا یا اعلیٰ درجہ کی اشیاء سے فائدہ اٹھانا روحانی لوگوں کا کام نہیں ہو سکتا۔مگر یہ لوگوں کی خود ساختہ روحانیت ہے اسلام اور عرفان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔الہی حکم یہی ہے کہ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيّت۔انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی نعمت ملے وہ اس سے خود بھی فائدہ اٹھائے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے۔کاہنوں کی طرح ان نعمتوں کو رد نہ کر دے۔اس آیت کے روحانی لحاظ سے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے جو تعلیم تجھے عطا کی ہے اس پر خود بھی عمل کرو اور دوسروں سے بھی عمل کراؤ۔اور جسمانی لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہم 790