نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 768 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 768

ہوتے ہیں جو جھوٹ کو برانہیں سمجھتے ، بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قتل کو برا نہیں سمجھتے۔پس اگر اس کے یہ معنے لئے جائیں کہ ہر انسان چوری کو یا جھوٹ کو یا قتل وغیرہ جرائم کے ارتکاب کو برا سمجھتا ہے تو یہ بالکل غلط ہو گا۔دنیا میں کئی لوگ ایسے ہیں جو ان افعال کو برا نہیں سمجھتے۔۔۔۔کوئی انسان دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا جو ہر چیز کو اچھا کہتا ہو یا ہر چیز کو برا سمجھتا ہو۔ہر انسان یہی کہے گا کہ بُرا کام نہیں کرنا چاہئے اور ہر انسان یہی کہے گا کہ اچھا کام ضرور کرنا چاہئے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ بُرے کام کو اچھا سمجھتا ہو یا اچھے کام کو بُرا سمجھتا ہومگر یہ احساس اس کے اندر ضرور پایا جاتا ہے کہ دنیا میں کچھ چیزیں اچھی ہیں اور کچھ چیزیں بُری ہیں۔مجھے اچھی چیزیں اختیار کرنی چاہئیں اور بُری چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔یہی معنے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا کے ہیں کہ ہر انسان یہ کہتا ہے کہ کچھ بُری چیزیں ہیں اور ہر انسان یہ کہتا ہے کہ کچھ اچھی چیزیں ہیں۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہر انسان میں اچھی اور بری چیزوں کے امتیا ز کا مادہ رکھا گیا ہے اور جب یہ بات ہے تو دلیل مکمل ہو جاتی ہے۔یعنی جب ہر انسان کے اندر یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ وہ کسی چیز کو اچھا اور کسی چیز کو برا کہتا ہے تو ضروری ہے کہ کوئی ایسی ہستی بھی ہو جو اسے بتائے کہ کون کون سی چیزیں اچھی ہیں اور کون کون سی چیزیں بُری ہیں۔یہ دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کے ثبوت میں لوگوں کے سامنے پیش کی ہے اور یہ دلیل ہے جس کا کوئی رد کسی بڑے سے بڑے دہریہ کے پاس بھی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے صرف یہ فرمایا ہے کہ ہم نے اسے فجور اور تقویٰ کا الہام کیا ہے یعنی ہر انسان میں فجور اور تقویٰ کی حس پائی جاتی ہے اور ہر انسان میں اللہ تعالیٰ نے ایسا مادہ رکھا ہے کہ وہ اس بات کو خوب سمجھتا ہے کہ میرے نفس کے لئے کچھ باتیں اچھی ہیں اور کچھ بری ہیں۔قد أفلح من زكهَا جس نے اس (نفس) کو پاک کیا۔وہ تو سمجھو کہ ) اپنے مقصود کو پا گیا۔768