نُورِ ہدایت — Page 764
دور کرنے کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔اس کے بعد روشنی کا دوسراذ ریعہ چاند ہوتا ہے اور وہ بھی ایسی حالت میں جب وہ سورج کے سامنے آجاتا ہے اس وقت وہ بھی دنیا کو اپنی شعاعوں سے منور کر دیتا ہے۔یہ دوز رائع ہیں جو دنیا میں انتشار نور کے لئے کام آتے ہیں۔وَالشَّمْسِ وَضُعَهَا میں بتایا کہ رسول کریم ملایان علی والے وجود ہیں۔چاہے تم اس نور سے فائدہ اٹھا دیا نہ اٹھاؤ ان کا تو نور بہر حال ظاہر ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ دنیا ایک دن تسلیم کرے گی کہ آپ حقیقت میں روحانی سورج تھے۔پس دنیا ان کے سامنے آئے یا نہ آئے اس کا کوئی سوال نہیں۔دنیا اس شمس کے سامنے آئے گی تو منور ہو جائے گی اور اگر نہ آئے گی تو ی شمس بہر حال شمس ہے اس کی ضحی پر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں نے اس کی طرف سے اپنی پیٹھ موڑ لی ہے۔پھر فرمایا ہے وَالْقَمَرِ إِذَا تلها یعنی آپ کے بعد بعض اور وجود بھی آئیں گے جو قمر کی حیثیت رکھیں گے یعنی محمد رسول الله عالی یہ نہ صرف ایسے شمس ہیں جو اپنی ذات میں روشن اور پُرانوار ہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے آپ کے نور سے اکتساب کرنے کے لئے بعض قمر بھی پیدا کر دیتے ہیں جو ہر زمانہ میں ان کے نور کو دنیا میں پھیلاتے رہیں گے۔وَالنَّهَارِ إِذَا جَلْهَا میں بتایا کہ ہمارا یہ سورج صرف اپنی ذات میں ہی روشنی نہیں رکھتا بلکہ ایک زمانہ آئے گا جبکہ دنیا بھی اس سے روشنی لے لے گی۔اس جگہ نہار سے مرادزمانہ نبوی نہیں بلکہ نہار سے مراد بعد کا زمانہ ہے جب سورج تو نہ ہوگا مگر دن کا وقت سورج کولوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاتا رہے گا یہاں تک کہ رات آجائے گی اور وہ اسے ڈھانپ لے گی اور ایک بار دنیا پھر معلوم کرلے گی کہ سورج کے بغیر گزارہ نہیں اور اس سے ڈوری خسران و تباب کا موجب ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جسمانی اور روحانی سورج میں ایک فرق بتایا ہے۔جسمانی سورج تو جب تک موجود رہتا ہے دن چڑھا رہتا ہے اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے رات آجاتی ہے لیکن روحانی سورج کی روشنی اس کے غائب ہونے کے بعد بڑھنی شروع ہوتی ہے گویا دنیوی دن تو سورج کے ہوتے ہوئے چڑھتا ہے لیکن روحانی دن سورج 764