نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 732 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 732

جہاں قوم کا سردار بیٹھا ہو۔لیکن تمارق اُن چھوٹے چھوٹے تکیوں کو کہتے ہیں جو دیواروں کے ساتھ ساتھ تمام اہل مجلس کے لئے رکھے جاتے ہیں اور جو بھی آتا ہے اُس تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہے۔اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مسلمان سارے کے سارے معربا ز ہوں گے۔یہ نہیں کہ ان میں سے صرف ایک شخص کے پیچھے گاؤ تکیہ ہو اور باقی تکیوں کے بغیر ہوں۔بلکہ ہر شخص کے پیچھے ایک ایک تکیہ ہوگا۔یعنی اللہ تعالیٰ قوم کی قوم کو معز اور باعظمت بنادے گا۔یہ خوبی اگر کامل طور پر ملی ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو۔افسوس ہے کہ ابھی ہمارے اندر بھی کئی لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جن کو دینی علوم حاصل کرنے کا کوئی شوق نہیں۔جو قرآن کریم کے علوم سے بہت حد تک ناواقف ہیں اور جن کے دلوں میں یہ احساس بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ قرآن کریم کو سمجھنے اور اس کے علوم کو سیکھنے کی کوشش کریں۔یه محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی تھی جن کو ایسی با کمال جماعت ملی جس نے آپ کی باتوں کوٹنا ، اُن پر عمل کیا اور پھر اُسے دوسرے لوگوں تک پہنچایا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں جو صحابہ کی طرح دین کی ہر بات کو سیکھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر وہاں سب کے سب ایسے تھے۔یہ ایک ایسی خوبی اور ایسا کمال ہے جس پر ہر قوم کو رشک کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو اُن جیسا بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اسی خوبی کا اللہ تعالیٰ نے زیر تفسیر آیت میں ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ مسلمانوں میں یہ نہیں ہوگا کہ ایک شخص گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھا ہوا ہو اور باقی لوگ اُس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں بلکہ تمام افراد کو عزت حاصل ہوگی، تمام افراد کو وجاہت حاصل ہوگی، تمام افراد کو عظمت حاصل ہوگی اور تکیے سب کے پیچھے ہوں گے۔کسی ایک فرد کے پیچھے بڑا سا تکیہ نہیں رکھا ہوگا۔732