نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 681 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 681

شخص اس کا قرب حاصل کر سکتا ہے جو تقدس اور پاکیزگی اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔گناہ آلود زندگی بسر کرنے والے، خدا تعالیٰ کے احکام کو پس پشت ڈالنے والے، شیطانی راہوں کو اختیار کرنے والے اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنے والے دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی ذلیل ہوں گے۔تمام کامیابیوں کی جڑ پاکیزگی اختیار کرنا ہے۔وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى ذكر اسم ربّہ کے معنے صرف یہی نہیں کہ انسان منہ سے کہتا رہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ سبحان الله الله اكبر - یا آج کل کے نام نہاد مسلمانوں کی طرح جو ذکر الہی کی اہمیت اور اس کے طریق سے ناواقف ہوتے ہیں صرف اللہ اللہ کہتا رہے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا انسان کو ہر وقت یادر ہے۔چنانچہ فصلی کا لفظ جو اس کے ساتھ ہی استعمال ہوا ہے بتا رہا ہے کہ ذکر سے مراد محض الفاظ کی رٹ لگانا نہیں بلکہ اس سے مراد وہ ذکر ہے جس کے نتیجہ میں نماز پڑھی جاتی ہے۔اگر منہ سے کہنے والی بات ہی مراد ہوتی تو وہ تو خود بخود نماز میں آجاتی ہے اس کے علیحدہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔مگر اللہ تعالیٰ کا ذکر اشتم ربّہ کا پہلے ذکر کرنا اور فصلی کو بعد میں رکھنا بتا رہا ہے کہ یہ وہ ذکر ہے کہ جس کے بعد نماز پڑھی جاتی ہے یعنی انسانی قلب پر خدا تعالیٰ کی محبت اس قدر غالب ہو کہ وہ بے چین ہو کر کھڑا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی۔عبادت میں مشغول ہو جائے۔پھر خدا کی محبت کا شعلہ اس کے دل میں بھڑک اٹھے اور وہ اپنے محبوب کے سامنے سر بسجود ہو جائے گویا ایک دیوانگی اور وائٹنگی اس پر طاری ہو۔خدا تعالیٰ کا ذکر اس کی غذا ہو اور اس کی یاد اُس کے دل میں اس طرح بار بارتازہ ہو کہ وہ اس بات پر مجبور ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے اور اپنی محبت کے جذبات کا ہدیہ اُس کے سامنے پیش کرے۔گویا اس ذکر سے مراد محض منہ سے اللہ اللہ کہنا نہیں بلکہ وہ عملی حالت مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کے عشق پر دلالت کرتی ہے اور جس کے نتیجہ میں نماز اور عبادت پیدا ہوتی ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر زیر تفسیر سورۃ الاعلی ) 681