نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 678 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 678

صرف احکام ہی نہیں ہوں گے بلکہ اُن احکام کے ساتھ ساتھ اُن کی حکمتیں بھی بیان ہوں گی اس لئے وہ احکام بجائے گراں گزرنے کے بالکل آسان معلوم ہوں گے اور لوگ اُن کو چھوڑ نا پسند نہیں کریں گے۔یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب کسی حکم کی حکمت بیان کر دی جائے اور انسان پر یہ واضح ہو جائے کہ یہ حکم میرے فائدہ کے لئے دیا گیا ہے تو جس شوق سے وہ حکمت معلوم کرنے کے بعد عمل کرتا ہے اُس شوق سے وہ حکمت معلوم کئے بغیر عمل نہیں کرسکتا۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ ہم نے ہر حکم کی حکمت بیان کر دی ہے اور اس وجہ سے اس تعلیم پر عمل لوگوں کے لئے نہایت آسان ہو گیا ہے۔غرض وَنُيَشرُكَ لِلْيُسْری کے تین معنے ہوئے۔یہ بھی کہ ہم نے اس قرآن کا حفظ کرنا آسان کر دیا ہے۔یہ بھی کہ ہم نے احکام کے ساتھ ان کی حکمتیں بھی بیان کر دی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کے لئے عمل آسان ہو گیا ہے۔اور یہ بھی کہ ہم نے ایسی تعلیم نازل کی ہے جس میں ہر فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے اور ضرورت کے مطابق اُس میں لچک پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ شریعت اسلامیہ کے تمام احکام کو دیکھ لو اسلام نے کسی ایک حکم کے متعلق بھی یہ نہیں کہا کہ اس میں حالات کے لحاظ سے کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔نماز کے متعلق اسلام نے نہایت ہی تاکیدی احکام دیتے ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص بیہوش ہو جائے تو اس کے لئے کوئی حکم نہیں رہتا۔اگر کوئی شخص پاگل ہو جائے تو اس کے لئے یہ حکم نہیں ہوگا کہ وہ بھی نماز پڑھے۔بلکہ اگر کوئی شخص نماز پڑھتے پڑھتے پاگل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ جب تک پاگل رہے ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے وہ نماز پڑھتا رہا ہے اور اُسے وہی ثواب ملے گا جو نماز پڑھنے والوں کو ملتا ہے۔غرض کوئی مشکل ایسی نہیں جس کا علاج اسلام میں موجود نہ ہو۔۔۔۔پس بے شک قرآن کریم میں بعض احکام بظاہر مشکل معلوم ہوتے ہیں مگر ان مشکل احکام کو با حکمت بنا کر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے آسان کر دیا ہے اور پھر ان احکام کو لچک دار بنایا ہے جس میں ضرورت کے وقت کئی قسم کی تبدیلیاں ہو جاتی ہیں اور ہر فطرت کا انسان آسانی سے اُن 678