نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 672 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 672

لمبے فوائد کی حامل ہوں وہ چلتی چلی جاتی ہیں۔اسی دلیل کا ذکر اللہ تعالی اس آیت میں کرتا ہے اور فرماتا ہے سَنُقْرِئُكَ فَلا تنسى ہم تجھے وہ تعلیم دیں گے جسے تو بھولے گا نہیں۔یہاں تو سے مراد صرف رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں بلکہ ساری امت محمدیہ مراد ہے۔اور یہ قرآن کریم کا طریق بیان ہے کہ کہیں صرف نبی کو مخاطب کیا جاتا ہے مگر مرادساری جماعت ہوتی ہے۔پس تو بھولے گا نہیں“ سے یہ مراد نہیں کہ صرف رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں بھولیں گے بلکہ مراد یہ ہے کہ اُمت محمدیہ اس کو نہ بھولے گی اور اس کے الفاظ محفوظ رکھے جائیں گے۔چنانچہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر (10) ہم نے ہی قرآن کریم نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کا وعدہ کرتے ہیں۔اسلام کے اشد ترین معاند بھی آج گھلے بندوں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم اسی شکل وصورت میں محفوظ ہے جس شکل وصورت میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اُس کو پیش فرمایا۔نولڈ کے سپر نگر اور ولیم میور سب نے اپنی کتابوں میں تسلیم کیا ہے کہ قطعی اور یقینی طور پر ہم سوائے قرآن کریم کے اور کسی کتاب کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس شکل میں بانی سلسلہ نے وہ کتاب پیش کی تھی اسی شکل میں وہ دنیا کے سامنے موجود ہے۔صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کے متعلق حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جس شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ کتاب دی تھی اسی شکل میں اب بھی محفوظ ہے۔الغرض یورپین مصنفین نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ جہاں تک قرآن کی ظاہری حفاظت کا سوال ہے اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ لفظا لفظا اور حرفا حرفا یہ وہی کتاب ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو پڑھ کر سُنائی۔لید غور کرو اور سوچو کہ یہ کتنی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو ان چند الفاظ میں کی گئی کہ سَنُقْرِئُكَ فلا تنسی۔اور پھر یہ پیشگوئی اس زمانہ میں کی گئی ہے جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر صرف چھ لوگ ایمان لانے والے پائے جاتے تھے ساری دنیا آپ کی مخالف تھی۔اور وہ آپ کے نام کو 672