نُورِ ہدایت — Page 671
اب دنیا کے سامنے موجود ہے۔اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کتابوں کے متعلق یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ مٹ جائیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ چاہتا تھا اُن کی جگہ اور کتاب نازل کرے۔ورنہ اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ تو رات دنیا میں قائم رہے تو جس خدا تعالیٰ نے موسلی پر تورات نازل کی تھی کیا وہ اس بات پر قادر نہیں تھا کہ اس کے مٹ جانے کی صورت میں دوبارہ ایک نبی موسی" جیسا کھڑا کر دیتا۔اور کہتا کہ چونکہ تورات مٹ گئی ہے اس لئے اب میں تجھ پر اصل تو رات نازل کرتا ہوں اسے دنیا میں پھیلا۔یا کیا حد اتعالیٰ یہ بھی نہیں کر سکتا تھا کہ جولوگ تو رات کو مٹانے لگے تھے اُن کو خود اپنے عذاب سے بلاک کر دیتا۔اس طرح اگر ژند اوستا قائم رہنے والی چیزیں تھیں اور خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ وہ دُنیا میں محفوظ رہیں اور لوگ اُن پر عمل کریں تو کیا سکندر کو خُدا تعالیٰ اپنے عذاب سے کچل نہیں سکتا تھا۔اگر خد اتعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ ویدوں پر ہی عمل کیا جائے تو کیا خدا اُن پنڈتوں اور ودوانوں کو مار نہیں سکتا تھا جنہوں نے وید بدلنے کی کوشش کی۔اگر خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ تو رات اپنی اصل صورت میں قائم رہے تو کیا خدا تعالی بخت نصر کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔اگر خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ دنیا کا انجیل پر ہی عمل رہے تو کیا اللہ تعالیٰ ان خرابیوں کو جو عیسائیوں نے انجیل میں پیدا کر دیں دُور نہیں کر سکتا تھا۔یقیناً خدا تعالیٰ ایسا کر سکتا تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے ان تغیرات کو ہونے دیا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ یہ کتابیں دُنیا میں محفوظ نہ رہیں۔دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جن چیزوں کو خدا تعالیٰ بچانے کا ارادہ رکھتا ہے دُنیا لاکھ کوشش کرے وہ اُن چیزوں کو بگاڑ نہیں سکتی۔اللہ تعالیٰ کی سنت سے یہ ثابت ہے کہ وہ الہامی کتب کو اُس وقت تک جب تک وہ دُنیا کے لئے مفید اور نفع رساں رہتی ہیں ہر قسم کے تصریف اور تحریف والحاق سے محفوظ رکھتا ہے۔مگر جب اُن کا کام ختم ہوجاتا ہے تو دُنیا اُن میں بگاڑ پیدا کرنا شروع کر دیتی ہے۔اسی طرح پیدائش عالم میں جو چیزیں عارضی فوائد کی حامل ہوں وہ ایک عرصہ کے بعد سٹر گل جاتی ہیں مگر جو چیزیں 671