نُورِ ہدایت — Page 642
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے پہلے انبیاء پر بھی اور بعد میں آنے والے پر بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ جل شانہ نے اسلامی امت کے گل لوگوں کے لئے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایاانَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمُ (المزمل (16) اور فرمایا وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء 42) مگر ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف تئیس برس تک اپنی امت میں رہے، پھر یہ سوال کہ دائمی طور پر وہ اپنی اُمت کے لئے کیونکر شاہد ٹھہر سکتے ہیں یہی واقعی جواب رکھتا ہے کہ بطور استخلاف کے یعنی موسیٰ عالی سلام کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دئیے اور خلیفوں کی شہادت بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت متصور ہوئی۔۔۔۔غرض شہادتِ دائمی کا عقیدہ جو نص قرآنی سے بتواتر ثابت اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلم ہے تبھی معقولی اور تحقیقی طور پر ثابت ہوتا ہے جب خلافت دائمی کو قبول کیا جائے“۔شہادت القرآن - روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 363) پس ہم احمدی اس ایمان پر قائم ہیں، ایک تو آخرت میں تصدیق ہوئی ہے جو ایمان بالغیب پر یقین کرتے ہوئے ہوتی ہے۔دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے زمانے کی تصدیق بھی آنے والے کو ماننے پر ہونی ہے جو خاتم الخلفاء ہے۔یہ مہر ہے جو کامل الایمان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی لگے گی۔احمدی کی تصدیق اس اعزاز کے ساتھ ہوگی کہ ہاں اس نے پہلوں کو بھی مانا اور بعد میں آنے والوں کو بھی مانا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا تھا۔اس نے کچھ کہا تھا تو آپ نے فرمایا بس کر اب تو میں اپنی ہی امت پر گواہی دینے کے قابل ہو گیا ہوں۔مجھے فکر ہے کہ میری امت کو میری گواہی کی وجہ سے سزا ملے گی“۔الحكم جلد 7 نمبر 9 مورخہ 10 مارچ 1903ء) 642