نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 641 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 641

نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مومن وہ ذات ہے جس نے اپنے اولیاء کو اپنے عذاب سے امن بخشا ہے۔پہلے معنی وسعت کے لحاظ سے زیادہ وسیع دائرے میں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت تو ہر چیز پر حاوی ہے، اس لئے ظلم کا تو سوال ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو عذاب کا سوال کیا؟ وہ تو خود بخود امن میں آجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے اولیاء پر جو ابتلاء آتے ہیں، حضرت مسیح موعود علیلا نے فرمایا ہے کہ وہ تو ان کا ایک امتحان ہوتا ہے جس میں سے وہ گزرتے ہیں اور بجائے شکوہ کے اللہ تعالیٰ کی مدد اور دعاؤں سے اس میں سے گزر جاتے ہیں۔ابوالعباس کہتے ہیں کہ عربوں کے نزدیک المؤمن کا معنی الْمُصَدِّق ہے اور مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالی اُمتوں سے رسولوں کی تبلیغ سے متعلق سوال کرے گا تو وہ کسی بھی رسول کی بعثت کا انکار کر دیں گے اور اپنے انبیاء کی تکذیب کریں گے۔پھر امت محمدیہ لائی جائے گی اور ان سے یہی سوال کیا جائے گا تو وہ سابقہ انبیاء کی بھی تصدیق کریں گے، اس پر اللہ تعالیٰ ان کی تصدیق کرے گا۔اس معنی میں اللہ تعالیٰ کو مومن یعنی المُصَدِّق کہا گیا ہے نیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی تصدیق کریں گے اور یہی مضمون اس آیت کریمہ کا ہے جو فرمایا فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هُؤُلاء شَهِيدًا (النساء 42) یعنی پس کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔۔۔بعض نے کہا ہے کہ اللہ کی صفت المومن کے معنی ہیں جو اپنے بندوں سے کئے ہوئے وعدے سچ کر دکھائے۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا ، مومن وہ ہیں جو کامل ایمان والے ہیں۔تمام انبیاء پر ایمان لانے والے ہیں اور یہ تمام انبیاء پر ایمان لانے کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے دی۔ابوالعباس کے اس اقتباس نے اسے مزید کھولا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ایک احمدی جو دراصل تمام انبیاء کی تصدیق کرنے والا ہے، ان کو ماننے والا ہے۔وہی ہے جو حقیقی رنگ میں مومن ہے۔641