نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 635 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 635

کہ مجھے ہر وقت ہر کام میں کل پر نظر رکھنے کی ضرورت نہیں اور کام کر کے پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔پس ہر وقت ہشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ہر وقت تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے کاموں اور اپنی حالتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اس کا رحم مانگنے کی ضرورت ہے۔ہر وقت یہ خیال دل میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ میں نے اپنے ایمان کو کس طرح بچانا ہے۔اور اس کی طرف جو اگلی آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا کیونکہ پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنے آپ سے غافل کر دے گا۔جیسا کہ میں نے مثال دی ہے کہ روحانی بیماری والے اپنے آپ کو بیمار نہیں سمجھتے بلکہ ان کے ہمدرد جب ان کو بیمار سمجھ کر ان کا علاج کروانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ الٹا ان ہمدردوں کو بیمار اور پاگل سمجھنے لگ جاتے ہیں۔گویا روحانی بیماری ان کو اپنے نفس کی حالتوں کو دیکھنے سے بالکل لا پرواہ کر دیتی ہے اور پھر نتیجہ سوائے تباہی اور بربادی کے اور کچھ نہیں نکلتا۔یا درکھنا چاہئے کہ عموماً انسان خدا تعالیٰ کو تین طریقوں سے بھلاتا ہے یا یہ تین قسم کے لوگ ہیں جو ہمیں عموماً دنیا میں نظر آتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے دُور ہیں یا دُور ہوتے ہیں۔ایک تو وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے وجود کے انکاری ہیں اور بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیتے ہیں کہ خدا تعالی کوئی چیز نہیں ہے۔جیسا کہ آج کل کی بہت بڑی تعداد اسی نظریے پر قائم ہے جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا کہتے ہیں۔اپنی تعلیم پر بڑا زعم ہے اور یہ لوگ میڈیا اور انٹرنیٹ اور مختلف طریقوں سے نوجوانوں اور کچے ذہنوں کو اپنے خیالات سے زہر آلود کرتے رہتے ہیں۔دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو حقیقی اور سچا ایمان تمام طاقتوں والے خدا پر نہیں ہے جس کے سامنے انہیں ایک دن پیش ہونا ہے اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔باوجود اس کے کہ یہ ایمان ہے یا اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک خدا ہے جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے اور اس کے تابع ایک نظام چل رہا ہے لیکن پھر بھی اس کے کہنے پر عمل نہیں ہے۔635