نُورِ ہدایت — Page 634
پس شیطان کا حملہ یا روحانی بیماری جو ہے جسمانی بیماری سے بہت زیادہ خطرناک ہے کیونکہ بسا اوقات اس کے علاج کے لئے انسان تیار نہیں ہوتا۔دوسرے توجہ بھی دلائیں کہ علاج کروالو تو اس طرف توجہ نہیں ہوتی۔پس ایک مومن کو اس سے پہلے کہ بیماری حملہ کرے اپنے جائزے لیتے ہوئے حفظ ما تقدم کے عمل کو شروع کر دینا چاہئے اور اس معاشرے میں جیسا کہ میں نے کہا کہ روحانی بیماریاں مستقل فضا میں پھیلی ہوئی ہیں اس لئے اپنے آپ کو بچانے کے لئے مستقل عمل کی بھی ضرورت ہے یا مستقل علاج کی بھی ضرورت ہے۔حفظ ما تقدم کی ضرورت ہے اور یہی ایک حقیقی مومن کے لئے ضروری ہے اور اس کو چاہئے کہ وہ اس کے لئے ہمیشہ کوشش کرتا رہے۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ مومن کبھی اللہ تعالیٰ کی خشیت اور خوف سے خالی نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ آپ جب بھی رات کو اٹھتے تو نہایت عجز اور انکسار سے دعائیں کرتے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے آپ کی اسی حالت کو دیکھ کر عرض کیا کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ معاف کر دیا ہے۔آپ کو اتنے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔اتنی خشیت سے اپنے لئے دعائیں کیوں کرتے ہیں؟ اپنے لئے اتنی خشیت کیوں ہے؟ (صحیح البخاری کتاب تفسیر القرآن باب ليغفر لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر۔۔۔حدیث نمبر 4837) بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بھی فرمایا تھا جیسا کہ میں نے کہا کہ انسان کے خون میں شیطان ہے تو آپ نے فرمایا تھا کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے۔(صحیح مسلم کتاب صفات المنافقین و احکامهم باب تحريش الشيطان وبعثه۔۔حدیث نمبر 7108) یعنی کسی روحانی بیماری کے حملہ آور ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میری نجات بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہے۔مجھے بھی ہر وقت اس کی طرف جھکے رہنے کی ضرورت ہے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سب کے باوجود اس قدر خشیت کا اظہار کرتے ہیں تو پھر اور کون ہے جو کہہ سکے 634