نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 55 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 55

دے گا اور جب تو اس بیان کو قبول کرلے تو ہر دجال ( کے شر ) سے خدا تعالیٰ کی حفظ وامان میں آ جائے گا اور ہر گمراہی سے نجات پا جائے گا۔اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 89-128) الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ الحمد لله - تمام محامد اس ذات معبود برحق مستجمع جمیع صفات کاملہ کو ثابت ہیں جس کا نام اللہ ہے۔۔۔قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود برحق اور مجمع جمیع صفات کا ملہ اور تمام رزائل سے منزہ ہ اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے۔کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء و صفات کا موصوف ٹھہرایا ہے اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رتبہ نہیں دیا۔پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیت تامہ ان تمام صفتوں پر دلالت ہے جن کا وہ موصوف ہے اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف ہے اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفات کاملہ پر مشتمل ہے۔پس خلاصه مطلب الحمد للہ کا یہ نکلا کہ تمام اقسام حمد کے کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے مخصوص ہیں اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔اور نیز جس قدر محامد صحیحہ اور کمالاتِ تامہ کو عقل کسی عاقل کی سوچ سکتی ہے یا فکر کسی متفکر کا ذہن میں لا سکتا ہے۔وہ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ میں موجود ہیں۔اور کوئی ایسی خوبی نہیں کہ عقل اس خوبی کے امکان پر شہادت دے۔مگر اللہ تعالی بد قسمت انسان کی طرح اس خوبی سے محروم ہو۔بلکہ کسی عاقل کی عقل ایسی خوبی پیش ہی نہیں کر سکتی کہ جو خدا میں نہ پائی جائے۔جہاں تک انسان زیادہ سے زیادہ خوبیاں سوچ سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہیں اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من کل الوجوہ کمال حاصل ہے اور رذائل سے بکلّی منڈہ ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 435 436 حاشیہ نمبر 11 ) واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے نیز 55