نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 54 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 54

جور تم کرنے والے اور پردہ پوش (اسم) احمد کا مظہر اور رحیم وغفار خدا کے جمال کا منبع ہے۔پس موسیٰ و عیسیٰ ہر دو نے پیشگوئی میں ایسی صفات کی خبر دی تھی جو ان کی اپنی صفات ذاتیہ سے مناسبت رکھتی ہیں۔اور ہر ایک نے اس جماعت کو ( پیشگوئی کے لئے ) چنا جن کے اخلاق اس کے اپنے پسندیدہ اخلاق کے مشابہ تھے۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے الفاظ اشداء عَلَى الْكُفَّارِ (الفتح (30) میں ان صحابہ کی طرف اشارہ فرمایا جنہوں نے ہمارے نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی اور انہوں نے جنگ کے میدانوں میں سختی و مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔اللہ تعالیٰ کے جلال کو سیف قاطع کے ذریعہ ظاہر کیا اور خدائے قہار کے رسول کے اسم محمد کے ظل بن گئے۔آپ پر اللہ تعالی ، اہل آسمان اور اہل زمین میں سے راستبازوں اور نیکوکاروں کا صلوۃ اور سلام ہو۔اور حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے قول كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطه الفتح (30 سے آخَرِينَ مِنْهُمْ (الجمعة4) کی قوم اور ان کے امام مسیح کی طرف اشارہ کیا بلکہ اس کے احمد نام کا صراحت سے ذکر کر دیا۔اور اس مثال سے جو قرآن کریم میں آئی ہے آپ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ مسیح موعود کسی بہت سخت چیز کی طرح نہیں بلکہ صرف نرم و نازک سبزہ کی طرح ظاہر ہوگا۔پھر یہ بھی قرآن کریم کے عجائبات میں سے ہے کہ اس نے احمد نام کا ذکر حضرت عیسی علیہ السلام سے نقل کیا اور محمد نام کا ذکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے نقل کیا تا کہ پڑھنے والے کو معلوم ہو جائے کہ جلالی نبی یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہ نام چنا جو ان کی اپنی شان کے مطابق ہے یعنی اسم محمد جو جلالی نام ہے اور اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام نے احمد نام چنا جو جمالی نام ہے کیونکہ وہ خود جمالی نبی تھے اور انہیں شدت اور جنگ سے کوئی حصہ نہیں دیا گیا تھا۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نبی نے اپنے اپنے کامل مثیل کی طرف اشارہ کیا۔پس (اے مخاطب) اس نکتہ کو یادرکھ کیونکہ یہ تجھے شکوک وشبہات سے نجات دے گا اور جلال اور جمال کے دونوں پہلوؤں کو آشکار کرے گا اور پردہ اٹھا کر حقیقت کو واضح کر 54