نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 583 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 583

ہوتا کیونکہ جیسا کہ یہاں بیان کیا گیا ہے اور خدا کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی کہ فرشتوں کی معیت عارضی نہیں وہ اس طرح نہیں آتے کہ پھر چلے جائیں اور جونیکیاں وہ لے کر آتے ہیں ان کو بھی ساتھ لے جائیں بلکہ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جن کے اعمال صالحہ میں دوام پیدا ہو جاتا ہے۔اور اسی گروہ کا اس آیت میں ذکر ہے وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مَن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا کہ اب بتاؤ ، ان سے زیادہ پیاری بات کرنے والا دنیا میں کون ہوگا؟ اپنے اعمال صالحہ سے ثابت کر رہے ہیں کہ یہ نیک اور خدا والے لوگ ہیں ، ابتلاؤں سے گزرے ہوئے ہیں، آزمودہ کار ہیں ، خطرات کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ہوا ہے اور ان سے کامیابی کے ساتھ گزرے ہوئے ہیں۔ان کی تلخیوں کو برداشت کیا ہوا ہے اور پھر ان تلخ درختوں کو خدا کی رحمت نے جو میٹھے پھل لگاتے تھے ان سے لذت یاب ہیں اس لئے ان سے زیادہ پیاری بات کرنے والا اور کوئی نہیں۔اس کے بعد ایک اور دور شروع ہوتا ہے، وہ کیا ہے؟ وہ انگلی چند آیات میں بیان کیا گیا ہے۔خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرمودہ 1 فروری 1983ء۔خطبات طاہر جلد 2 صفحہ 75 تا85) اسی تسلسل میں حضور رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1983ء ( بمقام مسجد احمدیہ مارٹن روڈ کراچی) میں ان آیات کی نہایت لطیف تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: قرآن کریم داعی الی اللہ کو اس کے مستقبل کے حالات سے بھی باخبر رکھتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں ( یہ موقع ہو یا کوئی اور موقع ہو ) جہاں حکم کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ذمہ داریوں سے آگاہ نہ کیا گیا ہو، اس کے اچھے اثرات سے آگاہ نہ کیا گیا ہو، اس کے خطرات سے آگاہ نہ کیا گیا ہو، اور پھر خطرات سے بچنے کا طریق نہ سکھایا گیا ہو۔پس وہ آیات جو یہاں سے شروع ہوتی ہیں وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا الشَّيْئَةُ ان میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔583