نُورِ ہدایت — Page 575
جو قر بانیوں کے بعد عطا ہوا کرتی ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تاریخ بھی اس پر گواہ ہے اور ہم خدا کے عاجز بندے بھی جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں ہم نے بھی بار با دیکھا کہ خدا کی راہ میں اگر ایک احمدی نے چند روپے کا نقصان برداشت کیا تو اس کے نتیجے میں اس کو سینکڑوں روپے عطا ہوئے۔سینکڑوں کا نقصان ہوا تو ہزار ہا عطا ہوئے اور ہزاروں کا نقصان برداشت کیا تو لکھوکھہا عطا ہوئے۔پس جس جماعت کو خدا کی طرف سے یہ ضمانت دی گئی ہو کہ تمہارا ہر غم خوشی میں تبدیل کر دیا جائے گا وہ خدا کی راہ میں کس طرح قدم پیچھے ہٹا سکتی ہے، جس جماعت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہو کہ تمہارا ہر خوف امن میں تبدیل کر دیا جائے گاوہ کس طرح کسی خوف کو پیٹھ دکھا کر بھاگ سکتی ہے۔چنانچہ یہ وہ لوگ ہیں جن میں سے داعی الی اللہ پیدا ہوتے ہیں جو مصائب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے قدم بڑھاتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ماضی ان کے لئے کیا لے کر آیا تھا لیکن یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر ایسے ماضی کے بعد خدا کے فرشتے ان کے لئے کیا لے کر آئے تھے۔پس وہ گواہ ہوتے ہیں ان مصائب کے بھی جو ان کو پہنچتے ہیں اور گواہ ہوتے ہیں ان جنتوں کے بھی جو مصائب کے دور کے بعد ہمیشہ ان کو عطا کی جاتی ہیں۔اس حالت میں جب وہ اللہ کی طرف بلاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مَنْ دَعَا إِلَى اللهِ۔دیکھو دیکھو! میرے ان بندوں سے زیادہ حسین ادعا دنیا میں کس کا ہوسکتا ہے۔مصائب کے سارے ادوار سے گزرنے کے بعد پھر یہ میری طرف بلا رہے ہیں۔پہلے یہ کہا تھا کہ رب ہمارا ہے۔اب کہتے ہیں کہ اے دنیا والو ! تم بھی اسی رب کے ہو جاؤ۔اپنے اس تجربے کے بعد وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہم تو ایسی عظیم الشان دولت کو پاچکے ہیں کہ دل پھڑک رہا ہے کہ کاش ! تمہیں بھی دولت نصیب ہو۔اس جوش اور جذبے کے ساتھ وہ خدا کے دین کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر ایک عرب شاعر کا یہ شعر بڑی شان کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔575