نُورِ ہدایت — Page 566
کرو اور کچھ اس کی قدر کرو جس کی اللہ کی نگاہ میں کوئی قدر ہی نہیں تو پھر تم سے جنت واپس لے لی جائے گی لیکن بہر حال خدا کہتا ہے کہ میں رمضان کی مخلصانہ دعاؤں کو قبول کرتا ہوں اور تمہارے لئے خوشیوں کے سامان پیدا کرتا ہوں۔یہ عید ہے جس کے منانے کے لئے ہم آج جمع ہوئے ہیں خدا کرے کہ ہماری نہایت ہی حقیر قربانیاں ہماری اس استقامت کی کوشش کے نتیجہ میں قبول ہو جائیں جو ہم نے کی۔استقامت بڑا ہی اہم اور بڑا ہی مشکل کام ہے۔اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں لیکن یہ معمولی کام بھی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت جگہ اس کے متعلق بیان فرمایا ہے۔میں اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ایک مختصر سا اقتباس اپنے بھائیوں کے سامنے اس وقت پیش کر دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔کمال استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں کہ خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبرو کو معرض خطر میں پاویں اور کوئی تسلی دینے والی بات موجود نہ ہو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ بھی امتحان کے طور پر تسلی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند کرے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے اس وقت نامردی نہ دکھلاویں اور بزدلوں کی طرح پیچھے نہ ہٹیں اور وفاداری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ نہ ڈالیں ذلت پر خوش ہو جائیں موت پر راضی ہو جائیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے۔نہ اس وقت خدا کی بشارتوں کے طالب ہوں کہ وقت نازک ہے اور باوجود سراسر بیکس اور کمزور ہونے کے اور کسی تسلی کے نہ پانے کے سیدھے کھڑے ہو جائیں اور ہر چہ بادا باد کہہ کر گردن کو آگے رکھ دیں اور قضاء و قدر کے آگے دم نہ ماریں اور ہر گز بے قراری اور جزع فزع نہ دکھلاویں جب تک کہ آزمائش کا حق پورا ہو جائے یہی استقامت ہے جس سے خدا ملتا ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی خاک سے اب تک خوشبو آرہی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 420) خطبات ناصر جلد دہم صفحہ 31 تا 37) 566