نُورِ ہدایت — Page 540
لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج 38) تقویٰ کے ساتھ لگا تو بکرا اللہ کے حضور پہنچ گیا اور تمہارے لئے دوسری زندگی میں بھی مفید ہو گا ( یہ زندگی تو اس زندگی کے مقابلہ میں اتنی معمولی چیز ہے کہ ہم اس کا نام ہی نہیں لیں گے ) دوسری زندگی میں بھی وہ کام آجائے گا۔آپ دفتر میں جاتے ہیں سو روپیہ آپ کو تخوا ہلتی ہے اب کوئی احمق ہی کہہ سکتا ہے کہ یہ چاندی کے سکے یا کاغذ کے نوٹ صرف اس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں قیصر کی چیز ہے اس کا ایک حصہ اس کو دے دینا چاہئے لیکن چونکہ یہ خدا کی چیز نہیں اسے نہیں دینا چاہئے۔اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو وہ تباہ ہو جائے گا۔اسے یہ کہنا چاہئے کہ ہر چیز چونکہ خدا کی ہے اس لئے جس قدر چاہے وہ لے لے پھر جو بچ جائے گا وہ میں استعمال کرلوں گا۔ایک مومن کی یہی نیت ہوتی ہے اس کی یہ نیت نہیں ہوتی کہ جو مجھ سے بچ جائے گا وہ میں خدا کو دے دوں گا بلکہ اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ جو بچ جائے گا اس معنی میں وہ کہے کہ میں نے اتنالے لیا باقی تم استعمال کرلو تو پھر وہ میں استعمال کرلوں گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے بعض کے ساتھ یہی سلوک کیا آپ نے فرمایا نہیں اتنا مال نہیں چاہئے واپس لے جاؤ اور استعمال کرو۔اس نے نیک نیتی کے ساتھ جتنا دینا چاہا پیش کر دیا اور ہمیں یقین ہے کہ اس نے خدا سے اسی کے مطابق ثواب حاصل کر لیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے اور اسلام کی اس وقت کی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہا سارے مال کی ضرورت نہیں واپس لے جاؤ۔پھر یہ بتانے کے لئے کہ جب ایک مومن خدا کے حضور اپنا سارا مال پیش کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بدنیتی نہیں ہوتی کہ سارا مال قبول نہیں کیا جائے گا اس لئے سارا مال پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔حضرت ابوبکرؓ نے جب اپنا سارا مال پیش کیا تو وہ سارا قبول کر لیا گیا اور بتایا گیا کہ ہر مومن کے دل کی یہی کیفیت ہے لیکن کچھ مومن وہ ہوتے ہیں جو جواں ہمت ہوتے ہیں اور جو انتہائی بوجھ برداشت کر سکتے ہیں ( چنانچہ آپ نے ان میں سے ایک کا سارا مال لے لیا اور مثال کو قائم کر دیا ) اور کچھ وہ ہوتے ہیں کہ ان کی روح تو انتہائی قربانیاں دینے 540