نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 539 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 539

صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کے ہاتھ میں دی ہے، ایمان لائے ہیں اور جن کی زندگیاں اسلام کی خاطر ہیں۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ 65 تا 69) اسی طرح خطبہ جمعہ فرمودہ 12 جولائی 1968ء میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضالین کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ضال سیدھے راہ سے بھٹکنے والے کو کہتے ہیں اور قرآن کریم نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا پس ضالین وہ ہیں جن کی تمام کوششیں ان راہوں کی تلاش میں رہتی ہیں جو اخروی زندگی سے ورے ورے ختم ہوتی جاتی ہے۔ضَل سَعْيُهُمْ في الحیوۃ الدنیا وہ اس ورلی زندگی کے کناروں سے نکل کر اُخروی زندگی تک نہیں پہنچتیں۔راہ بھٹک جاتی ہے کوشش جو ہے وہ آگے چل ہی نہیں سکتی ایسے راستے وہ اختیار کرتے ہیں جن کا صرف اس دنیا سے تعلق ہے حالانکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ ساری چیزیں (خواہ وہ قوتیں اور استعدادیں ہوں یا مادی سامان ہوں یا فطرت کے تقاضے ہوں ) اس لئے دی تھیں کہ اس دنیا میں وہ ختم نہ ہوں نہ صرف اس دنیا سے ان کا تعلق ہو بلکہ ان کے نتیجہ میں انسان اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت کو حاصل کرے اور اس دنیا میں بھی وہ اس رضا کی جنت کو حاصل کرے لیکن ایک گروہ انسانوں میں سے یا بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ جوان قوتوں کی انتہا اس دنیا کے ورے ورے سمجھتے ہیں اسی طرح دنیا کے جو سامان ہیں ان کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ بس دنیا میں ہی ہمارے کام آئیں گے حالانکہ ایک عقلمند مومن یہ جانتا ہے کہ وہ بکرا جو خدا نے مجھے دیا ہے اور جو گوشت پوست ہے اور اس کی زندگی بھی چھوٹی ہے ایک ایسی چیز ہے جو صرف اس دنیا میں ہمارے کام نہیں آسکتی بلکہ اگر ہم چاہیں تو یہ اس دوسری دنیا میں بھی ہمارے کام آئے گی کیونکہ اگر ہم چاہیں تو تقویٰ کا ٹیگ لیبل اس کے ساتھ لگا دیں تو بکرا یہاں رہ جائے گا لیکن وہ ٹھیک، وہ لیبل آسمانوں کے خدا کے پاس پہنچ جائے گا۔لَن ينال الله 539