نُورِ ہدایت — Page 46
میں داغ دینے کے نشان کو کہتے ہیں۔چنانچہ لغت عرب میں اقسَمَ الرَّجُلُ اُس وقت کہتے ہیں جب کوئی شخص اپنے لئے کوئی ایسی علامت مقرر کرلے جس سے وہ پہچانا جا سکے اور عوام الناس اُسے دوسرے اشخاص سے الگ سمجھ سکیں اور اہلِ زبان کے نزدیک وسُم کے لفظ سے ى سِمَةُ الْبَعِيرِ اور وِسَامُ الْبَعِيرِ مشتق ہے۔جس کے معنے اونٹ پر داغ دے کر کوئی شکل بنانے کے ہیں تا وہ شکل اُس کی شناخت میں محمد ہو۔اور اسی لفظ و سم سے اہلِ عرب کا یہ محاورہ ہے إِنِّي تَوَسَمْتُ فِيهِ الْخَيْرَ وَمَا رَأَيْتُ الضّيرِ یعنی میں نے اس کے چہرے پر غور کیا اور اس پر کوئی شر کی علامت نہ دیکھی اور نہ ہی میں نے اس کی زندگی میں بدی کا کوئی نشان پایا۔پھر اسی لفظ و سم سے وسمی کا لفظ نکلا ہے جس کے معنی موسم بہار کی پہلی بارش کے ہیں کیونکہ جب وہ برستی ہے تو زمین پر پانی بہنے کے نشان بناتی ہے جیسے چشمے اپنے بہنے سے نشان بناتے ہیں۔اسی طرح آرضٌ مَّوْسُومَةٌ زمین کو اس وقت کہتے ہیں جب اس پر موسم بہار کی پہلی بارش بر وقت بر سے اور بہہ کر کسانوں کے دلوں کو تسکین دے۔پھر اسی لفظ وَسُم سے موسم نکلا ہے جیسے مَوْسِمُ الْحَج ہے اور مَوْسِمُ السُّوق اور دوسرے مواسم ہیں۔کیونکہ یہ ایسے مواقع ہیں جن میں کسی نہ کسی مقصد کے لئے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اور میسم کا لفظ بھی وَسُم سے ہی مشتق ہے جس کا اطلاق حسن و جمال پر ہوتا ہے اور اکثر حالتوں میں خوبصورت عورتوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔عربی زبان اور عرب شعراء کے دیوانوں کی چھان بین کرنے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وہ اس لفظ کو زیادہ ترخیر کے مواقع پر ہی استعمال کرتے تھے، خواہ وہ دنیا کی خیر ہو یا دین کی اور آپ جانتے ہیں کہ عوام الناس کے نزدیک کسی چیز کا اسم وہ ہوتا ہے جس سے وہ چیز پہچانی جاتی ہے لیکن خواص اور اہل علم کے نزدیک اسم شے کی اصل حقیقت کے لئے بطور ظل کے ہے بلکہ یہ امر یقینی ہے کہ اشیاء کے جو نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں یہ تمام نام ان چیزوں کے لئے ان کی نوعی صورتوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ نام معانی اور علوم حکمیہ کے پرندوں کے لئے بمنزلہ گھونسلوں کے ہیں۔اور اس بابرکت آیت میں اللہ، رحمان اور رحیم ناموں کا یہی حال ہے۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے خصائص اور اپنی مخفی 46