نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 45 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 45

رحیمیت ایسی ہیں کہ بغیر ان کے کوئی کام دنیا کا ہو یا دین کا انجام کو پہنچ نہیں سکتا اور اگر غور کر کے دیکھو تو ظاہر ہو گا کہ دنیا کی تمام مہمات کے انجام دینے کے لئے یہ دونوں صفتیں ہر وقت اور ہر لحظہ کام میں لگی ہوئی ہیں۔آیت ممدوحہ کی تعلیم سے مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کے شروع کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ کی ذات جامع صفات کاملہ کی رحمانیت اور رحیمیت سے استمداد اور برکت طلب کی جائے۔صفت رحمانیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذاتِ کامل اپنی رحمانیت کی وجہ سے اس سب اسباب کو محض لطف اور احسان سے میسر کر دے کہ جو کلام الہی کی متابعت میں جدو جہد کرنے سے پہلے درکار ہیں جیسے عمر کا وفا کرنا، فرصت اور فراغت کا حاصل ہونا، وقت صفا میسر آجانا ، طاقتوں اور قوتوں کا قائم ہونا، کوئی ایسا امر پیش نہ آ جانا کہ جو آسائش اور امن میں خلل ڈالے، کوئی ایسا مانع نہ آ پڑنا کہ جو دل کو متوجہ ہونے سے روک دے۔غرض ہر طرح سے تو فیق عطا کئے جانا یہ سب امور صفتِ رحمانیت سے حاصل ہوتے ہیں۔اور صفتِ رحیمیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذات کامل اپنی رحیمیت کی وجہ سے انسان کی کوششوں پر ثمرات حسنہ مترتب کرے اور انسان کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچاوے اور اس کی سعی اور جدوجہد کے بعد اس کے کام میں برکت ڈالے۔پس اس طور پر خدائے تعالیٰ کی دونوں صفتوں رحمانیت اور رحیمیت سے کلام الہی کے شروع کرنے کے وقت بلکہ ہر یک ذیشان کام کے ابتدا میں تبرک اور استمداد چاہنا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی صداقت ہے جس سے انسان کو حقیقت توحید کی حاصل ہوتی ہے اور اپنے جہل اور بے خبری اور نادانی اور گمراہی اور عاجزی اور خواری پر یقین کامل ہو کر مبدء فیض کی عظمت اور جلال پر نظر جا ٹھہرتی ہے اور اپنے تئیں بکلی مفلس اور مسکین اور پیچ اور ناچیز سمجھ کر خداوند قادر مطلق سے اس کی رحمانیت اور رحیمیت کی برکتیں طلب کرتا ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص - روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 414-423 حاشیہ نمبر (11) اسم کا لفظ ( جو بسم اللہ میں آیا ہے ) وسم سے مشتق ہے اور وشم عربی زبان 45