نُورِ ہدایت — Page 510
(2) دوسرے نصاریٰ کے فتنے سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاری ایک سیل عظیم کی طرح ہوگا۔اس سے بڑھ کر کوئی فتہ نہیں۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 210، 212) کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہمارے عجیب کام فقط اصحاب کہف تک ہی ختم ہیں۔نہیں۔بلکہ خدا تو ہمیشہ صاحب عجائب ہے اور اس کے عجائبات کبھی منقطع نہیں ہوتے۔( براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 562 حاشیہ در حاشیہ نمبر 4) میں دیکھتا ہوں براہین میں میرا نام اصحاب الکہف بھی رکھا ہے۔اس میں یہ سر ہے کہ جیسے وہ مخفی تھے اسی طرح پر تیرہ سو برس سے یہ راز مخفی رہا اور کسی پر نہ کھلا۔اور ساتھ اس کے جو رقیم کا لفظ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود مخفی ہونے کے اس کے ساتھ ایک کتبہ بھی ہے۔اور وہ کتبہ یہی ہے کہ تمام نبی اس کے متعلق پیشگوئی کرتے چلے آئے ہیں۔احکم جلد 9 نمبر 28 مورخہ 10 / اگست 1905 ، صفحه (2) لا۔۔۔مجھے بھی الہام ہوا تھا آم حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحَبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ أَيْتِنَا حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احکم جلد 10 نمبر 6 مورخہ 7 فروری 1906 صفحہ 3) حدیث شریف میں آیا ہے کہ فتنہ دجال سے بچنے کے واسطے ہر جمعہ کو سورۃ کہف کی پہلی دس آیتیں اور پچھلی دس آیتیں پڑھو۔ان آیات کے مطالعہ سے واضح ہو سکتا ہے کہ دجال کون ہے اور اس کے کیا صفات ہیں اور اس سے بچنے کی کیا راہ ہے۔ا ما : 1 - مُسْتَقِيما - بالکل سیدھے راہ پر اور سیدھی راہ بتانے والی 2۔مُصدّق اور صداقتوں کی اور اپنی صداقتوں کی 3۔حافظ اس پر عمل کرنے والوں کے لئے۔شدید کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ سخت مخالفت کے واسطے تیار ہے۔510