نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 498 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 498

عَلِمَ اللهُ وقَبَّل الله جب اللہ تعالیٰ کے لئے شہد کا لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جانا اور اسے قبول فرمایا - وَقِيلَ كُتب الله۔بعض کے نزدیک اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عمل کو لکھ لیا۔( اقرب) ان آیات میں مسلمانوں کو آنے والی خطرناک مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ایک طرف ہجرت کے بعد ان قوموں سے مقابلہ ہونے والا تھا۔جوظاہر میں عبادت گزار تھیں۔اور مسلمانوں کی سستی انہیں اعتراض کا موقعہ دے سکتی تھی۔دوسری طرف مسلمانوں کو جلد فتوحات ملنے والی تھیں جس سے عبادات میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔پس دونوں امور کوملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو ہوشیار کیا کہ دشمن کے طعن کا نشانہ اسلام کو نہ بنانا۔اور نہ سست ہو کر خدا تعالیٰ کے فضلوں کو کھودینا۔حمد اس آیت میں پانچوں نمازوں کے اوقات بتائے گئے ہیں۔دُلُوک کے تین معنی ہیں۔اور ہر ایک معنی کی رُو سے ایک ایک نماز کا وقت ظاہر کر دیا گیا۔( 1 ) مَالَتْ وَزَالَتْ عَنْ كَبِدِ السَّمَاء یعنی زوال کو ڈلوک کہتے ہیں۔اس میں ظہر کی نماز آگئی (2) اضفرت۔جب سورج زرد پڑ جائے تو اس کو بھی دلوک کہتے ہیں اس میں نما ز عصر کا وقت بتادیا گیا۔(3) تیسرے معنی غربت یعنی غروب شمس کے ہیں۔اس میں نماز مغرب کا وقت بتایا گیا ہے (4) غَسَقَ الَّيْلُ کے معنی ظُلْمَةُ أَوَّلِ الَّيْلِ کے ہیں۔یعنی رات کے ابتدائی حصہ کی تاریکی۔اس میں نما ز عشاء کا وقت مقرر کر دیا گیا۔(5) قُرانِ الْفَجْرِ کہہ کر صبح کی نماز کا ارشاد فرمایا۔اس کے سوا کوئی اور تلاوت صبح کے وقت فرض نہیں ہے۔إن قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا۔احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کی نماز کے وقت دن کے فرشتے آتے ہیں اور رات کے فرشتے چلے جاتے ہیں۔وہ فرشتے جب خدا کے پاس جاتے ہیں تو دریافت کرنے پر کہتے ہیں کہ ہم جب دنیا میں گئے تو تیرے بندوں کو نماز پڑھتے ہی دیکھا اور واپس آئے ہیں تو نماز پڑھتے ہی چھوڑ کر آئے 498