نُورِ ہدایت — Page 491
XXXXXXXXXXXXX سورة بنی اسرائیل۔آیات 79 تا 85 XXXX اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ 79۔تو سورج کے ڈھلنے (کے وقت) سے لے کر الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ رات کے خوب تاریک ہو جانے (کے وقت ) تک ( مختلف گھڑیوں میں ) نماز کو عمدگی سے ادا کیا کر۔كَانَ مَشْهُودًا اور صبح کے وقت ( قرآن ) کے پڑھنے کو بھی ( لازم سمجھ )۔صبح کے وقت ( قرآن ) کا پڑھنا یقیناً ( اللہ کے حضور میں ایک ) مقبول عمل ہے۔وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَلَى 80۔اور رات کو بھی تو اس (قرآن) کے ذریعہ سے أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا کچھ سو لینے کے بعد شب بیداری کیا کر۔جو تجھ پر ایک زائد انعام ہے۔(اس طرح پر ) بالکل متوقع ہے کہ تیرا رب تجھے حمد والے مقام پرکھڑا کر دے۔وَقُل رَّبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ 81۔اور کہہ (کہ) اے میرے رب ! مجھے نیک طور پر ( دوبارہ مکہ میں ) داخل کر اور ذکر نیک چھوڑنے واخْرِجُنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَلْ تي مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا والے طریق پر ( مگہ سے) نکال اور اپنے پاس سے میرا کوئی مددگار ( اور ) گواہ مقرر کر۔وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ 82۔اور سب لوگوں سے کہہ دے (کہ بس الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا اب ) حق آ گیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے اور باطل تو ہے ہی بھاگ جانے والا۔وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ 83۔اور ہم قرآن میں آہستہ آہستہ وہ (تعلیم) لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِينَ إِلَّا اتار رہے ہیں جو مومنوں کے لئے ( تو ) شفا اور رحمت ( کا موجب ) ہے اور ظالموں کوصرف خسارہ خَسَارًا میں بڑھاتی ہے۔491