نُورِ ہدایت — Page 481
اپنے جسم کو بھوکا رکھتے ہیں اور حج جو ہے اس کے جو ظاہری ارکان حج ہیں وہ ہمارے جسم سے تعلق رکھنے والے ہیں۔جس عبودیت کا تعلق بدن سے ہے اس کا نام ذکر ہے يَذْكُرُونَ اللهَ قيما و قُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمُ اور جس عبودیت کا تعلق قلب اور روح کے ساتھ ہے اس کے متعلق کہا يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ اور عبودیت کے ہر دو حصے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں یعنی جو ظاہری طور پر مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر نماز میں دعا کرتے ہوئے رقت نہ پیدا ہوتو وہ مصنوعی طور پر رقت کی حالت پیدا کرے۔آہستہ آہستہ اس کا دل بھی اس طرف حقیقی رقت کی طرف مائل ہو جائے گا اور جو قلب کی اور روح کی عبودیت ہے اس کے نتیجہ میں جسم جو ہے وہ بھی دل اور روح کے ساتھ خدا تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے اور اخلاص کے نتیجہ میں انسان کا جسم بھی اعمالِ صالحہ بجالاتا ہے جس کا اللہ تعالی نے اسے حکم دیا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ روایت منسوب ہوتی ہے تَفَكُرُ سَاعَةٍ خَيْرُ من عِبَادَة ستين سنة کہ ایک گھڑی کا تفکر ساٹھ سال کی عبادت ظاہری سے زیادہ بہتر ہے۔ظاہر ہے کہ عِبَادَة ستين سنةً یہاں اس عبادت کا ذکر ہے جس میں تفکر نہیں۔قلب اور روح کا حصہ نہیں۔یعنی جس عبادت میں ہمارا دل شامل نہیں ہوا صرف ظاہر ہے، جس عبادت میں ہماری روح پکھل کے آستانہ الہی پر نہیں یہ بھی محض نمائش ہے اور ریا ہے۔آپ کو سمجھانے کے لئے ستين سنة کہہ دیا۔یعنی بلوغت کی ساری عمر کی کھوکھلی عبادت سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ چھلکا ہے وہ تو کھوکھلی چیز ہے اس کے اندر تو کوئی حقیقت نہیں، کوئی اخلاص نہیں۔خدا تعالیٰ کے لئے کوئی پیار اور محبت نہیں ، اس محبت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ پر قربان ہونے کی کوئی خواہش نہیں۔خدا تعالیٰ کے لئے ہر چیز کو چھوڑ دینے کا کوئی عزم نہیں۔وہ عبادت تو خدا تعالیٰ قبول نہیں کرے گا۔ان آیات کے بعد دعا کی تعلیم دی اور اس میں یہ ہمیں بتایا گیا کہ دعا کی قبولیت کے لئے کوئی وسیلہ ہونا چاہیے۔یعنی کوئی ایسی شکل ہونی چاہئے کہ دعا قبول ہو جائے۔ایسی دعا جو 481