نُورِ ہدایت — Page 480
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو ہم نے دو طاقتیں دی ہیں ایک ذکر کی اور ایک تفکر کی اور جو عقل مند ہیں خالص اور صحیح عقل رکھنے والے عقل اور ٹب میں یہ فرق ہے۔عقل میں جب ہوائے نفس شامل ہو جائے اور وہ خالص نہ رہے تب بھی عربی زبان اسے عقل ہی کہتی ہے مثلاً آج کی مہذب دنیا جو دنیا میں ڈوب گئی اور خدا کو بھول گئی وہ بھی عربی زبان کے لحاظ سے عقلمند کہلائیں گے اگر چہ ان کی عقل میں ان کی ادنی خواہشات اور میلان نفس کی بھی بڑی ملاوٹ آگئی اور انہوں نے اپنی تسلی کے لئے گراوٹوں میں لذتیں محسوس کرنی شروع کر دیں اور اس کا جواز پیدا کرلیا اور اس حد تک چلے گئے یہ عقلمند کہ انگلستان کی ملکہ کو سڈومی (Sodomy) بل پر دستخط کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑا۔اس حد تک گراوٹ اور عقلمند بھی ہیں عربی زبان ان کے لئے عقل کا لفظ استعمال کرے گی لیکن عربی زبان ان کے لئے اُولُوا الْأَلْبَابِ کا لفظ نہیں استعمال کرے گی۔اس واسطے کہ کب کے معنے ہیں خالص عقل جو اپنی صفائی میں اور پیورٹی (Purity) میں انتہا کو پہنچ چکی ہو اس کو عربی زبان میں کب کہتے ہیں تو یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے انسان کو خالص عقل دی تھی۔اس نے اس کو اپنی نالائقیوں کی وجہ سے اور گری ہوئی خواہشات کے نتیجہ میں ناخالص بنادیا اور گدلا کر دیا لیکن وہ لوگ جنہوں نے خالص عقل کو قائم رکھا وہ اپنی ان دو طاقتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایک ذکر سے ایک تفکر سے۔ذکر وہ کرتے ہیں ہر حالت میں يَذْكُرُونَ الله قيما وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهم اور وہ تقف بھی کرتے ہیں تفکر بھی وہ ہر حالت میں کرتے ہیں۔اس آیت سے یہی واضح ہوتا ہے عربی میں (جیسا کہ مفسرین نے اس کی وضاحت کی ہے ) ذکر اور تفکر میں فرق ہے وہ کہتے ہیں کہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے۔بدن اور روح سے۔بدن سے تعلق رکھنے والی عبودیت کو ذ کر کہتے ہیں اور قلب اور روح سے تعلق رکھنے والی عبودیت کو تفکر کہتے ہیں اور کامل ذکر وہ ہے جوانسان کے تمام جوارح اور اعضا سے تعلق رکھتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں حکم دیا نماز پڑھنے کا اور نماز کے اندر قیام بھی ہے اور رکوع بھی ہے اور سجدہ بھی ہے اور قعدہ بھی ہے اور زبان کا ذکر بھی۔یہ جسم کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔روزہ ہے اس کا ہمارے بدن کے ساتھ تعلق ہے۔ہم 480