نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 477 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 477

قدر صاف حکم ہے کہ دانشمند اپنی دانشوں اور مغزوں سے بھی کام لیں اور جان لیں کہ اسلام کا خدا ایسا گورکھ دھندا نہیں کہ اسے عقل پر پتھر مار کر بجبر منوایا جائے اور صحیفہ فطرت میں کوئی بھی ثبوت اس کے لیے نہ ہو بلکہ فطرت کے وسیع اوراق میں اس کے اس قدر نشانات ہیں جو صاف بتلاتے ہیں کہ وہ ہے۔ایک ایک چیز اس کا ئنات میں اس نشان اور تختہ کی طرح ہے جو ہر سڑک یا گلی کے سر پر اس سڑک یا محلہ یا شہر کا نام معلوم کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔خدا کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور اس موجود ہستی کا پتہ ہی نہیں بلکہ مطمئن کر دینے والا ثبوت دیتی ہے زمین و آسمان کی شہادتیں کسی مصنوعی اور بناوٹی خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں دیتیں بلکہ اس خدائے أحد الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ کی ہستی کو دکھاتی ہیں جو زندہ اور قائم خدا ہے اور جسے اسلام پیش کرتا ہے۔طبعی تحقیقا تیں جہاں تک ہوتی چلی جائیں گی وہاں تو حید ہی توحید نکلتی چلی جائے گی۔اللہ تعالیٰ اس آیت إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ الآیۃ میں بتلاتا ہے کہ جس خدا کو قرآن پیش کرتا ہے اس کے لیے زمین آسمان دلائل سے بھرے پڑے ہیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ، صفحہ 70 تا 71) رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ، صفحہ 71) قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔پھر اس کےآگےفرماتا ہے: الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِمَّا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمُ الآية ـ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جل شانہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ عقل و دانش ایسی چیزیں ہیں جو یونہی حاصل ہوسکتی ہیں، نہیں! بلکہ سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیے بغیر حاصل ہی نہیں ہوسکتی۔اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نورِ الہی سے دیکھتا ہے۔صحیح فراست اور حقیقی دانش جیسا میں نے ابھی کہا کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہوا گرتم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو، فکر کرو،سوچو، تدبر اورفکر 477