نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 476 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 476

ہیں تو بے اختیار بول اٹھتے ہیں کہ ایسا نظام ابلغ اور محکم ہر گز باطل اور بے سود نہیں بلکہ صانع حقیقی کا چہرہ دکھلا رہا ہے۔پس وہ الوہیت صانع عالم کا اقرار کر کے یہ مناجات کرتے ہیں یا الہی تو اس سے پاک ہے کہ کوئی تیرے وجود سے انکار کر کے نالائق صفتوں سے تجھے موصوف کرے۔سو تو ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا۔یعنی تجھ سے انکار کرنا عین دوزخ ہے اور تمام آرام اور راحت تجھ میں اور تیری شناخت میں ہے۔جو شخص کہ تیری سچی شناخت سے محروم رہاوہ در حقیقت اسی دنیا میں آگ میں ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 434) حمد اہل اسلام وہ قوم ہے جن کو جابجا قرآن میں یہی رغبت دی گئی ہے کہ وہ فکر اور خوض میں مشق کریں اور جو کچھ عجائبات صنعت زمین و آسمان میں بھرے پڑے ہیں ان سے واقفیت حاصل کریں۔مومنوں کی تعریف میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِمَّا وَقُعُودًا و عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا مومن وہ لوگ ہیں جو خدائے تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے بستروں پر لیٹے ہوئے یاد کرتے ہیں اور جو کچھ زمین و آسمان میں عجائب صنعتیں موجود ہیں ان میں فکر اور غور کرتے رہتے ہیں اور جب لطائف صنعت الہی ان پر کھلتے ہیں تو کہتے ہیں کہ خدایا تو نے ان صنعتوں کو بیکار پیدا نہیں کیا یعنی وہ لوگ جو مومن خاص ہیں صنعت شناسی اور ہیئت دانی سے دنیا پرست لوگوں کی طرح صرف اتنی ہی غرض نہیں رکھتے کہ مثلاً اسی پر کفایت کریں کہ زمین کی شکل یہ ہے اور اس کا قطر اس قدر ہے اور اس کی کشش کی کیفیت یہ ہے اور آفتاب اور ماہتاب اور ستاروں سے اس کو اس قسم کے تعلقات ہیں بلکہ وہ صنعت کی کمالیت شناخت کرنے کے بعد اور اس کے خواص کھلنے کے پیچھے صانع کی طرف رجوع کر جاتے ہیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 191 تا 192 ) آسمانوں کی بناوٹ اور زمین کی بناوٹ اور رات اور دن کا آگے پیچھے آنا دانشمندوں کو اس اللہ کا صاف پتا دیتے ہیں جس کی طرف مذہب اسلام دعوت کرتا ہے۔اس آیت میں کس 476