نُورِ ہدایت — Page 416
ہیں کہ نجات کے لئے صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آنا کافی ہے۔اس کے رسولوں اور کتابوں وغیرہ پر ایمان لانا ضروری نہیں۔اسی قسم کے خیالات ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کے بھی تھے۔اور انہی خیالات کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُسے اخراج از جماعت کی سزا دی اور بڑے زور سے تحریر فرمایا کہ یہ عقیدہ اسلام کے سراسر خلاف ہے۔اسلام تمام رسولوں پر اور بالخصوص محمد رسول اللہ علیم پر ایمان لانا نجات کے لئے ضروری قرار دیتا ہے۔لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کسی ایک رسول کا انکار بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنا دیتا ہے۔پس خواہ کوئی نبی تشریعی ہو یا غیر تشریعی ، پہلے زمانہ میں آچکا ہو یا آئندہ زمانہ میں آئے ، ہر ایک کا ماننا ضروری ہے۔بیشک مدارج کے لحاظ سے ان میں بڑا فرق ہے۔جس مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اُس مقام پر نہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، نہ عیسیٰ علیہ السلام اور نہ کوئی اور نبی۔مگر جہاں تک نفس ایمان کا سوال ہے جس طرح محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح بغیر کسی فرق کے موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء پر بھی ایمان لانا ضروری ہے اور اس لحاظ سے انبیاء میں کسی قسم کی تفریق پیدا کرنا جائز نہیں۔اسی طرح خدائی کلام پر عمل کرنے کے لحاظ سے بھی انبیاء میں کسی قسم کا کوئی امتیاز کرنا جائز نہیں۔بیشک اُن کے درجات مختلف ہوں۔لیکن اُن پر کلام نازل کرنے والا چونکہ ایک ہی ہے اس لئے یہ فرق کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں کہ مثلاً فلاں نبی چونکہ درجہ میں بڑا ہے اس لئے اس پر نازل ہونے والے کلام کو تو ہم مانیں گے لیکن فلاں نبی چونکہ درجہ میں چھوٹا ہے اس لئے اس پر نازل ہونے والے کلام کو ماننا ہمارے لئے ضروری نہیں۔اس قسم کا احمقانہ فرق کرنا ایسا ہی ہے جیسے مثلاً کوئی کہے کہ میرے افسر نے فلاں حکم چونکہ رجسٹری کے ذریعہ نہیں بھیجا بلکہ عام ڈاک میں بھیجا ہے اس لئے میں نے اس کی تعمیل نہیں کی۔کیا جاہل سے جاہل شخص بھی اس قسم کا عذر پیش کر سکتا ہے؟ اور کیا اسے تسلیم کرنے کے لئے کوئی تیار ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر خدائی 416