نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 412 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 412

احادیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ سخت گھبرائے اور انہوں نے رسول کریم علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم نماز اور روزہ اور جہاد اور صدقہ وغیرہ کے احکام پر تو عمل کر سکتے ہیں مگر اس آیت میں تو ایک ایسا حکم نازل ہوا ہے جس پر عمل کرنے کی ہم میں طاقت ہی نہیں۔اس پر آنحضرت عالم نے فرمایا۔آتُرِيدُونَ آن تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَبِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ۔فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ وَذَلَّتْ بِهَا الْسِنَتُهُمُ انْزَلَ اللهُ فِي أَثَرِهَا امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ (مسلم) یعنی کیا تم چاہتے ہو کہ تم وہی کہو جو اہل کتاب نے تم سے پہلے کہا تھا کہ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا۔تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم کہو سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ۔جب صحابہ نے اپنے دل کی گہرائیوں سے یہ الفاظ کہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور انہوں نے اپنی گردنیں جھکا دیں اور اس کی مغفرت اور رحم کے طلبگار ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اظہارِ خوشنودی کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی کہ امن الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم علی نے کے ارشاد پر صحابہ کرام نے فوراً اپنی غلطی تسلیم کرلی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی۔پھر یہ آیت منسوخ کس طرح ہو سکتی ہے؟ نسخ تو کسی عمل کا ہوتا ہے اور یہاں کسی عمل کا ذکر نہیں۔پس یہ بالکل غلط ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں تزکیۂ نفس کے لیے خیالات کی پاکیزگی بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔بے شک خیالات کو کلی طور پر پاک رکھنا تو ہر انسان کے لئے ناممکن ہے لیکن اگر کوئی برا خیال پیدا ہو تو اُسے اپنے دل سے نکال دینا تو ہر انسان کے لئے ممکن ہے۔مثلا اگر کسی شخص کے دل میں یہ خیال آئے کہ میں رشوت لوں تو وہ اس کے متعلق سوچنا اور مختلف قسم کی تدابیر عمل میں لانا شروع نہ کر دے بلکہ جہاں تک ہو سکے اس خیال کو فوراً اپنے دل سے نکالنے کی کوشش کرے ورنہ اس کا نقش مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔اور پھر اس خیال کا مٹانا 412