نُورِ ہدایت — Page 409
حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں : وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمْ بِهِ الله کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔والی آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔یعنی پہلے تو یہ کہا گیا تھا کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اگر تم اسے ظاہر کر یعنی اس کے مطابق عمل کرو تب بھی اور اگر تم اس کو چھپاؤ یعنی صرف دل کے خیالات تک ہی محدود رکھو تمہارے جوارح اس کے مطابق کوئی عمل نہ کریں تب بھی اللہ تعالیٰ اس کے متعلق تم سے حساب لے گا۔لیکن پھر کہہ دیا کہ اللہ تعالی کسی شخص پر ایسا بوجھ نہیں ڈالتا جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔اور چونکہ دل کے خیالات کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے اس لیے وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي انْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمْ بِهِ الله والی آیت منسوخ ہوگئی۔مگر ان کا یہ خیال درست نہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نسخ حالات کے تغیر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ، نہ کہ دل کے خیالات کے ساتھ۔مثلاً اسلام میں پہلے گدھے کا گوشت کھانے کی اجازت تھی مگر بعد میں اس سے روک دیا گیا۔لیکن صحابہ کے دل کی حالت تو پہلے بھی ویسی ہی تھی جیسے بعد میں تھی۔یعنی جس طرح پہلے وہ اپنے دل کے خیالات پر قابو نہیں رکھتے تھے اسی طرح بعد میں بھی نہیں رکھتے تھے۔پس دل کے خیالات کے متعلق نسخ کے کوئی معنے ہی نہیں ہیں۔منسوخ تو وہ احکام ہوتے ہیں جو تبدیلی حالات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اور یہ امر تو تبدیلی پذیر ہے ہی نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے اس آیت کو سمجھا ہی نہیں۔انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ انسان کے دل میں جو خیال بھی آجائے اس کے حساب لینے کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔حالانکہ اس آیت میں ان امور کا ذکر ہے جن کو انسان اپنے نفس میں چھپا کر رکھتا ہے۔آنی خیالات تو بخشے جائیں گے۔لیکن ایک غلط عقیدہ ، بغض، حسد اور محل وغیرہ کے خیالات سب دل میں ہی ہوتے ہیں اگر اُن کو بھی بخش دیا جائے تو پھر ایمان کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے۔پس اس جگہ تُخْفُوهُ سے مراد حسد، کینہ اور بغض وغیرہ ہے جو دل میں رکھا جاتا ہے۔اسی 409