نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 408 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 408

لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا: عیسائی کہتے ہیں کہ شریعت کا نزول ہمارے عجز کے ثبوت کے لئے ہے۔ایسے ہی کئی اور لوگ ہیں جن کا یہ عقیدہ ہے کہ شریعت پر عمل ناممکن ہے۔اس لئے فرمایا کہ ہم کوئی حکم ایسا نہیں دیتے جو انسان کی مقدرت، وسعت ، استطاعت کے مطابق نہ ہو۔ا لَهَا مَا كَسَبَتْ : جو کچھ عمل کرے اس کا فائدہ بھی اسی عامل کے لئے ہے۔وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ : ہر مصیبت کی جڑ انسان کی نافرمانی ہوتی ہے۔مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُم (الشوری (31) پھر بھی بعض گستاخ لوگ اپنے دُکھوں کو خدا کے ذمہ لگاتے ہیں۔ربَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا: حدیث میں آیا ہے اس دعا کا نتیجہ تھا کہ نسیان پر مواخذہ نہیں ہوتا۔خطا کی مثال یہ ہے کہ بندوق ماریں ہرنی کو اور لگ جائے انسان کو۔ما اخرا إحتر کیا چیز ہے؟ اختر کے معنے غفلت کرنے کی وجہ سے کئی انسان شریر ہو گئے۔پھر اسی اختر کے معنے نہ سمجھنے سے تقدیر کے مسئلے میں غلطی لگی۔اختر کے معنے ہیں ایسے فعل کا ارتکاب جس کے بعد انسان سُست و کاہل ہو جائے۔اختر کہتے ہیں گرد ڈالنے کو۔حبش الشئ اختر نام ہے ایسے عہد کا جس کے توڑنے سے انسان خیرات کے قابل نہیں رہتا۔پس اس کے معنے یہ ہوئے کہ اے ہمارے مولا کریم ! ہم کو ایسے افعال کا مرتکب نہ کر جن کا یہ نتیجہ ہو کہ ہم تیرے حضور سے دھتکارے جائیں۔جیسے کہ پہلے لوگوں نے بدذاتیاں کیں۔معاہدات کا نقض کیا اور مغضوب علیہم بنے۔ہم نہ بنیں۔نہ انت مؤلينا : مولیٰ جب خدا کے لئے بولا جاوے تو اس کے تین معنے ہیں۔1 - مالک۔2۔ربّ۔3۔ناصر۔ضمیمه اخبار بدر قادیان 20 مئی 1909ء) (ماخوذ از حقائق الفرقان) 408