نُورِ ہدایت — Page 396
کیونکہ بارہا اس نے اترتا ہوا عذاب دعا سے ٹال دیا۔اس کی توریت گواہ ہے۔اسی طرح جب ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کا شفیع ہونا اجلی بدیہیات معلوم ہوتا ہے۔( یعنی بہت واضح اور صاف طور پر، روشن طور پر نظر آتا ہے۔) ” کیونکہ آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ آپ نے غریب صحابہ کو تخت پر بٹھادیا۔اور آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ وہ لوگ باوجود اس کے کہ بت پرستی اور شرک میں نشو نما پایا تھا ایسے موحد ہو گئے جن کی نظیر کسی زمانے میں نہیں ملتی۔اور پھر آپ کی شفاعت کا ہی اثر ہے کہ اب تک آپ کی پیروی کرنے والے خدا کا سچا الہام پاتے ہیں۔خدا ان سے ہمکلام ہوتا ہے۔مگر مسیح ابن مریم میں یہ تمام ثبوت کیونکر اور کہاں سے مل سکتے ہیں“۔فرمایا کہ ”ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر اس سے بڑھ کر اور زبردست شہادت کیا ہوگی کہ ہم اس جناب کے واسطے سے جو کچھ خدا سے پاتے ہیں ہمارے دشمن وہ نہیں پاسکتے۔اگر ہمارے مخالف اس امتحان کی طرف آویں تو چند روز میں فیصلہ ہوسکتا ہے۔“ عصمت انبیاء ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 699-700) پھر آیتہ الکرسی کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی جو دو صفات بیان کی گئی ہیں یعنی علی۔انتہائی بلند شان والا اور اس سے بلند کسی کی شان نہیں ہے۔وہی زمین و آسمان کا مالک ہے۔اور وہ عظیم ہے۔اس کی عظمت اور بڑائی اور بلند شان کا وہ مقام ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔اس کی بلند شان ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔کوئی چیز اس کے دائرے اور احاطے سے باہر نہیں ہے۔علی ہونا یہ اس کی بلندشان ہے۔اور عظیم ہونا اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کی عظمت اور بڑائی اور بلند شان کا مقام ہے جس تک کوئی پہنچ نہیں سکتا۔یہ عظیم ہونے کے معنی ہیں۔اور عظیم ہونے کے یہ بھی معنی ہیں کہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔کوئی چیز اس کے دائرے اور احاطے سے باہر نہیں ہے۔یہ ہے اس کی عظمت اور بلندی۔اس آیت کے آخری حصہ کی وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلا فرماتے ہیں کہ : 396