نُورِ ہدایت — Page 395
ہے۔پس انسان کو اس وقت شفیع کہا جاتا ہے جبکہ وہ کمال ہمدردی سے دوسرے کا بجفت ہو کر اس میں فنا ہو جاتا ہے اور دوسرے کے لئے ایسی ہی عافیت مانگتا ہے جیسا کہ اپنے نفس کے لئے۔اور یادر ہے کہ کسی شخص کا دین کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ شفاعت کے رنگ میں ہمدردی اس میں پیدا نہ ہو۔(انتہائی ہمدردی ہونی چاہئے ایک دوسرے کے لئے۔) فرمایا بلکہ دین کے دو ہی کامل حصے ہیں۔ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دعا کرنا جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں“۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 464) یہ ایک نکتہ ہے جسے آیۃ الکرسی پڑھتے وقت ہم سامنے رکھیں تو بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے جذبات بڑھیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ پڑھنے کی تلقین فرمائی تو اس میں ایمان لانے والوں کے آپس کے ہمدردی کے تعلقات قائم کرنے کے لئے بالخصوص ارشاد ہے اور بنی نوع انسان کے لئے بالعموم توجہ دلاتی ہے کہ ہر ایک کے لئے ہمدردی کا جذ بہ تمہارے دل میں ہونا چاہئے لیکن بد قسمتی ہے کہ مسلمان آجکل آپس میں ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اور دعویٰ یہ ہے کہ ہم قرآن اور حدیث پر عمل کرنے والے ہیں۔بہر حال یہ بھی یادر ہنا چاہئے کہ حقیقی شفاعت کا حق اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا اور اس کے نظارے آپ کی زندگی میں ہم نے دیکھے۔چنانچہ اس کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : آخرت کا شفیع وہ ثابت ہو سکتا ہے جس نے دنیا میں شفاعت کا کوئی نمونہ دکھلایا ہو۔آخرت میں بھی وہی شفیع ہوگا۔یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آیا ہے کہ وہ شفاعت کریں گے کہ وہی ثابت ہو سکتا ہے جس نے دنیا میں بھی کوئی شفاعت کا نمونہ دکھلایا ہو۔) ”سواس معیار کو آگے رکھ کر جب ہم موسیٰ پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی شفیع ثابت ہوتا ہے۔395