نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 32 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 32

کہ یہ الہی اسرار کا خزانہ ہے۔علاوہ ازیں اس سورت کی آیات کا سات کی تعداد میں منحصر ہونا مبدء و معاد کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔میری مراد یہ ہے کہ اس کی سات آیات دنیا کی عمر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ سات ہزار سال ہے اور ہر آیت ہزار سال کی کیفیت پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ آخری ہزار سال گمراہی میں بڑھ کر ہوگا اور یہ مقام اسی طرح اظہار کا مقتضی تھا جس طرح یہ سورۃ شروع دنیا سے لے کر آخرت تک کے ذکر کی کفیل ہے۔اعجاز امسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 74-79) سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں ایک اور خاصہ بزرگ پایا جاتا ہے کہ جو اسی کلام پاک سے خاص ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو تو جہ اور اخلاص سے پڑھنا دل کو صاف کرتا ہے اور ظلمانی پردوں کو اٹھاتا ہے اور سینے کو منشرح کرتا ہے اور طالب حق کو حضرت احدیت کی طرف کھینچ کر ایسے انوار اور آثار کا مورد کرتا ہے کہ جو مقر بان حضرت احدیت میں ہونی چاہئے اور جن کو انسان کسی دوسرے حیلہ یا تدبیر سے ہر گز حاصل نہیں کرسکتا۔برا بین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 402۔حاشیہ نمبر 11 ) فاتحہ فتح کرنے کو بھی کہتے ہیں۔مومن کو مومن اور کافر کو کافر بنادیتی ہے یعنی دونوں میں ایک امتیاز پیدا کر دیتی ہے اور دل کو کھولتی، سینہ میں ایک انشراح پیدا کرتی ہے۔اس لئے سورہ فاتحہ کو بہت پڑھنا چاہئے اور اس دُعا پر خوب غور کرنا ضروری ہے۔ا حکم 24 دسمبر 1900 ، صفحہ 1 -2) سورۃ فاتحہ تو ایک معجزہ ہے اس میں امر بھی ہے، نہی بھی ہے، پیشگوئیاں بھی ہیں۔قرآن شریف تو ایک بہت بڑا سمندر ہے۔کوئی بات اگر نکالنی ہو تو چاہئے کہ سورۃ فاتحہ میں بہت غور کرے کیونکہ یہ اُٹھ الکتاب ہے۔اس کے بطن سے قرآن کریم کے مضامین نکلتے ہیں۔(احکم 10 رفروری 1901 صفحہ 12) سورۃ فاتحہ میں جو پنج وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اشارہ کے طور پر کل عقائد کا ذکر 32