نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 31 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 31

اقوال سے ہی کھلتی ہے اور ایسا ہی اس کی روحانیت چاہتی ہے کہ عنایت ربانی اس کی دستگیری کرے اور اس کی مدد سے اسے صفاء باطن اور انوار و مکاشفات الہیہ حاصل ہوں اور یہ سورۃ کریمہ ان سب مطالب پر مشتمل ہے بلکہ یہ سورۃ اپنے حسنِ بیان اور قوت تبیان سے دلوں کو موہ لینے والی ہے۔م اس سورۃ کے ناموں میں سے ایک نام سبع مقانی ہے اور اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس سورۃ کے دو حصے ہیں۔اس کا ایک حصہ بندہ کی طرف سے خدا کی ثنا اور دوسرا نصف فانی انسان کے لئے خدا تعالیٰ کی عطا اور خش پر مشتمل ہے۔بعض علماء کے نزدیک اس کا نام السَّبُعُ الْمَتَانی اس لئے ہے کہ یہ سورۃ تمام كُتب الہیہ میں امتیازی شان رکھتی ہے اور اس کی مانند کوئی سورۃ تورات یا انجیل یا دوسرے صحفِ انبیاء میں نہیں پائی جاتی۔اور بعض کا خیال ہے کہ اس کا نام مثانی اس لئے ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ایسی سات آیات پر مشتمل ہے کہ ان میں سے ہر آیت کی قراءت قرآنِ عظیم کے ساتویں حصہ کی قراءت کے برابر ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام السَّبْعُ الْمَقَانِع اس بنا پر رکھا گیا ہے کہ اس میں جہنم کے سات دروازوں کی طرف اشارہ ہے۔اور ان میں سے ہر ایک دروازہ کے لئے اس سورۃ کا ایک حصہ مقرر ہے جو خدائے رحمان کے اذن سے جہنم کے شعلوں کو دُور کرتا ہے۔پس جو شخص جہنم کے ان سات دروازوں سے محفوظ گزرنا چاہتا ہے اسے لازم ہے کہ وہ اس سورۃ کی ساتوں آیات کے حصار میں داخل ہو اور ان سے دلی لگاؤ ر کھے اور ان پر عمل کرنے کے لئے خدائے قدیر سے استقلال طلب کرے۔اور تمام اخلاق، اعمال اور عقائد جو انسان کو جہنم میں داخل کرتے ہیں وہ اصولی طور پر سات مہلک امور ہیں اور سورت فاتحہ کی یہ سات آیات ایسی ہیں جو ان مہلکات کی شدائد کو دفع کرتی ہیں۔احادیث میں اس سورۃ کے اور بھی کئی نام مذکور ہیں لیکن تیرے لئے اسی قدر بیان کافی ہے 31