نُورِ ہدایت — Page 391
ہمارے لئے اسوہ حسنہ بن گئے۔ان کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ستاروں کی مانند ہیں جن سے تم راستوں کی طرف راہنمائی حاصل کرتے ہو۔پس یہ لوگ بھی وہ تھے جو صراط مستقیم پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن گئے۔پس کیا خوش قسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست فیض پایا اور اندھیروں سے نور کی طرف جانے کی منزلیں جلد جلد طے کرتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن گئے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق آخری زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیجا جس کو پھر اپنے آقا و مطاع کے نُور کا پر تو بنا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں مصطفی پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بارِ خدایا ہم نے اور آپ عالئیسلام پر جب اس ٹور کی انتہا ہوئی تو آپ عالئیسلام سے براہ راست فیض پانے والے بھی اپنے دلوں کو ٹور سے بھرتے ہوئے صراط مستقیم پر قائم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن گئے۔توحید کا قیام کرنے والے بن گئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو صراط مستقیم کی دعا سکھائی ہے تو اس کے لئے اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق اس نور سے فیض حاصل کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق نور ملتا ہے، کسی کو کم اور کسی کوزیادہ لیکن ملتا ضرور ہے۔نور سے فائدہ ہر انسان ضرور اٹھاتا ہے۔ہر مومن اٹھاتا ہے جو نیک نیتی سے اس کی طرف بڑھے گا۔اللہ تعالیٰ کسی کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اس لئے یہ نہیں فرمایا کہ ہر ایک نے بہر حال اس مقام تک پہنچنا ہے جو اعلیٰ ترین مقام ہے۔لیکن کوشش کا حکم ہے۔جس کے لئے پوری طرح کوشش ہونی چاہئے۔بے شک صراط مستقیم کی طرف اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے اور اس کے لئے اس نے ہمیں دعا بھی سکھائی ہے جو ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں لیکن اس 391