نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 376 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 376

خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے۔اور پھر انسانِ کامل بر طبق آیت إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء آیت : 59) اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید، ہمارے مولی ، ہمارے بادی ، نبی امی ، صادق و مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔“ ( آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 162-160) رض پس یہ مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے نور سے ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں یہ نور منتقل کر کے ان کو بھی اعلیٰ اخلاق پر قائم فرمایا۔آپ نے اپنے صحابہ کو ستاروں سے تشبیہ دی ہے کہ جن کے بھی پیچھے چلو گے تمہیں روشنی ملے گی۔خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ ملتا ہے۔عرب کے آن پڑھ کہلانے والے جولوگ تھے اس ٹور کی وجہ سے جو انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اعلیٰ اخلاق دکھانے کا ایک نمونہ بن گئے۔اللہ تعالیٰ کے نور سے اس طرح حصہ پایا کہ اللہ تعالیٰ نے رضی اللہ عنہم کا تمغہ ان کے سینے پر سجا دیا جو بعد میں آنے والوں کو بھی روشنی کی راہیں دکھانے کا باعث ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان صحابہ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں محو تھے۔جو ٹور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں تھا وہ اس اطاعت کی نالی میں سے ہو کر صحابہ کے قلب پر گرتا اور ماسوا اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا۔تاریکی کی بجائے ان سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اللہ فی اصحابی۔میرے صحابہ کے دلوں میں اللہ ہی اللہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ جو نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْض ہے، اس نے اپنے نور کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے بعد بند نہیں کر دیا۔بلکہ جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نور جو آپ نے خدا تعالیٰ سے لیا ہمیشہ کے لئے جاری فیض کا ایک چشمہ ہے اور اسلامی شریعت ہی ہے جو تاقیامت جاری رہنے والی شریعت ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت 376