نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 375 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 375

سوشلزم یا کمیونزم ہے نہ کیپٹلزم ہے۔بلکہ ایک درمیانی تعلیم ہے جو انسانی حقوق کو واضح کرتی ہے۔دنیا کے امن کو قائم کرتی ہے اور اس مثال میں جو یہ فرمایا کہ قریب ہے وہ تیل از خود روشن ہو جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اس سے مراد عقل لطیف نورانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اسی طرح تمام اخلاق فاضلہ ہیں جو آپ کی فطرت کا حصہ بن چکے ہیں۔اور نُورٌ عَلی نُور سے مراد یہ ہے کہ ان تمام خصوصیات کے حامل انسانِ کامل پر جب خدا تعالیٰ نے اپنا نور ڈالا یعنی تو روحی تو روحانی دنیا میں وہ نور پیدا ہوا جس کی کوئی مثال نہیں۔پس یہ ہے خلاصہ اس ساری تفسیر کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے۔پہلے بھی میں ایک دفعہ تفصیل سے بیان کر چکا ہوں۔اب حقیقی نور صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی شریعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ میں ہے۔اور تمام پرانی شریعتیں اب اس کامل انسان اور جو نُور عَلی نُور ہو چکا ہے کے آنے کے بعد ختم ہو چکی ہیں اور اب یہی تعلیم ہے اور یہی نور ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور سے فیضیاب کرنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقام کو جو انسان کامل ہونے کا مقام ہے ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”وہ اعلی درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا۔نجوم میں نہیں تھا ،۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیزا رضی اور سماوی میں نہیں تھا۔صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں۔جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء، سید الاحیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سو وہ نوراس انسان کو دیا گیا۔اور حسب مراتب اس کے تمام ہمرنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں۔اور امانت سے مراد انسانِ کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی وجسمانی ہیں جو 375