نُورِ ہدایت — Page 372
بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنا نام نور رکھا ہے تو وہ اس اعتبار سے ہے کہ وہی منور ہے یعنی ہر چیز کو روشن کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کا نام نور اس وجہ سے ہے کہ وہ یہ کام یعنی روشن کرنا بہت زیادہ کرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔پھر اس آیت کی مثال دی گئی ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْض یعنی اللہ ہی ہے جس کے نور سے آسمانی اور زمینی حقائق الاشیاء کا علم ہوتا ہے اور وہ اپنے ولیوں کو پھر اس نور سے منور کرتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو اپنے آپ کو نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کہا ہے اور اس کی مثال جیسا کہ میں نے بتایا اہل لغت نے دی ہے۔تو اس آیت میں اپنے اس ٹور کی مثال دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔لیکن یہ ٹور انسانوں پر پڑتے ہوئے انہیں کس طرح منور کرتا ہے۔یہ سورۃ نور کی آیت ہے۔یہ بھی چند ماہ پہلے میں ایک جگہ بیان کر چکا ہوں۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرِقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِي ۖ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورُ يَهْدِى اللهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (النور (36) یعنی اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو۔وہ چراغ شیشہ کے شمع دان میں ہو۔وہ شیشہ ایسا ہو گویا کہ ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔وہ ( چراغ ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو جو نہ مشرقی ہو نہ مغربی۔اس (درخت) کا تیل ایسا ہے کہ قریب ہے کہ وہ از خود بھڑک کر روشن ہو جائے خواہ اسے آگ کا شعلہ یہ بھی چھوا ہو۔یہ نور علی نور ہے۔اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔اس آیت کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کی روشنی میں جیسا کہ میں نے بتایا، چند ماہ پہلے میں ایک اور مضمون کے ضمن میں بیان کر چکا ہوں۔اب یہاں اس 372