نُورِ ہدایت — Page 371
لغات میں لکھا ہے کہ نور اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ میں سے ایک صفت ہے اور النُّور ابن اثیر کے نزدیک وہ ذات ہے جس کے ٹور کے ذریعہ جسمانی اندھا دیکھتا ہے اور گمراہ شخص اس کی دی ہوئی سمجھ سے ہدایت پاتا ہے۔یہ معنے لسان العرب میں لکھے ہیں۔پھر اسی طرح لسان میں دوبارہ لکھا ہے کہ بعض کے نزدیک نور سے مراد وہ ذات ہے جو خود ظاہر ہے اور جس کے ذریعے سے ہی تمام اشیاء کا ظہور ہورہا ہے۔اور بعض کے نزدیک ٹور سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی ذات میں ظاہر ہے اور دوسروں کے لئے بات کو ظاہر کرتی ہے۔پھر لسان میں لکھا ہے، ابو منصور کہتے ہیں کہ نُور اللہ نور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ آپ فرماتا ہے اللهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْض (النور (36)۔اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے بعض کا خیال ہے کہ اس کے معنی ہیں کہ اللہ ہی ہے جو آسمان میں رہنے والوں اور زمین میں رہنے والوں کو ہدایت دینے والا ہے۔اور بعض کے نزدیک مَثَلُ نُورِه گيشكوة فِيهَا مِصْبَاح (النور (36) کا مطلب ہے کہ مومن کے دل میں اس کی ہدایت کے نور کی مثال طاق میں رکھے ہوئے چراغ کی سی ہے۔النور اس پھیلنے والی روشنی کو کہتے ہیں جو اشیاء کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے اور یہ دو قسم کی ہوتی ہے۔دنیوی اور اخروی۔پھر کہتے ہیں دنیوی نور پھر دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ ٹور جس کا ادراک بصیرت کی نگاہ سے ہوتا ہے اور یہ وہ نور ہے جو الہی امور میں بکھرا پڑا ہے جیسے نُور عقل اور نورِ قرآن۔دوسرے وہ نور جس کو جسمانی آنکھ کے ذریعہ سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔اہل لغت اس کے معنے بیان کرتے ہوئے بعض آیات کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔مثلاً نور الہی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ قَدْ جَاءَ كُم مِّنَ اللهِ نُورٌ وَكِتَبٌ مُّبِينٌ (المائدة 16) یعنی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹور اور کتاب مبین آچکی ہے۔اسی طرح فرمایا: وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا تمشى بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّقَلُهُ فِي الظُّلُمتِ لَيْسَ بِخَارِجِ منها (الانعام (123) اور ہم نے اس کے لئے روشنی کی جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے۔کیا ایسا شخص اس جیسا ہوسکتا ہے جو اندھیروں میں ہو اور اس سے نکل نہ سکے۔371