نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 362 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 362

ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔پس ہمارا خدا عالم الغیب ہے۔اس لئے ایسے لوگ جو کھلے گناہوں میں پڑے ہوئے ہیں ان کے بارہ میں نہ تو یہاں شفاعت کا اذن ہوتا ہے اور نہ اگلے جہان میں ہوگا۔یہی قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے علم کی وسعتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمة إلا بما شاء۔اس میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے علم کا احاطہ کوئی نہیں کر سکتا۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی جو خدا تعالیٰ کے محبوب ترین ہیں اور آپ کے بارہ میں مومنوں کو حکم ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی محبت چاہتے ہو تو میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو جن کو تمام علموں سے اللہ تعالیٰ نے بھر دیا تھا۔آئندہ زمانوں کی جو بھی خبریں قرآن کریم نے دیں وہ آپ کے ذریعہ سے آئیں اور ان کا ادراک بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت عطا فرمایا۔بعض باتیں ایسی ہیں جو اس زمانے میں صحابہ سمجھ نہیں سکتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بھی ادراک رکھتے تھے۔لیکن فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مکمل علم نہیں ہے۔بلکہ میرے علم کی وسعتوں کو کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا۔اس طرح اللہ تعالی تلاش کرنے والوں کو چاہے روحانی مدارج اور علوم کی تلاش میں کوئی ہو یا دنیاوی علوم کی تلاش میں کوئی ہو ، نئے راستے دکھاتا ہے، نئی منزلیں دکھاتا ہے۔اور جب انسان وہاں پہنچتا ہے تو پھر مزید راستے نظر آتے ہیں۔سائنس کی ترقی بھی اس بات کی دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ نئے سے نئے راستے ان جستجو کرنے والوں کو دکھاتا ہے اور کائنات کی وسعتوں کا تو شمار ہی نہیں ہے۔اسی طرح روحانی مدارج ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا علم لامحدود ہے جس کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔نہ صرف خدا تعالیٰ کی ہستی کا احاطہ نہیں ہوسکتا بلکہ اس کائنات کی پیدائش کا بھی احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔خدا ہی ہے جب چاہتا ہے کچھ راز انسانوں پر ظاہر فرما دیتا ہے یا کچھ علم دے دیتا ہے اور یہ بات پھر انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف پھیرنے والا بنانے والی ہونی چاہئے جو تمام صفات کا جامع اور لامحدود ہے۔362