نُورِ ہدایت — Page 357
اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” وہ خدا جو لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں ہے۔یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آ جائے۔اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی۔اللہ تعالیٰ کا مقام اور اس کی قدرتیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔) اور یہ جو فرمایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کاملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو وہ سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہوسکتا، وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے۔" " اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 372) پس ایک مومن کے دل میں خوف خدا پیدا ہوتا ہے جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے کو سامنے رکھتے ہوئے کہ وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے ، اپنے نفس کا جائزہ لیتا ہے۔کئی باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں، ہمارے سے روزانہ ہو جاتی ہیں جس میں ہم لاشعوری طور پر بہت سی چیزوں کو خدا تعالیٰ کا شریک بنا کر اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے اور اس کی ربوبیت زمین و آسمان پر پھیلی ہوئی ہے۔اللہ ہماری ایسی حالتوں کو اپنی مغفرت اور رحم کی صفات سے ڈھانپ لے - لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (الأنبياء 88) کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، میں یقیناً ظالموں میں سے ہوں۔پس اللہ لا إلهَ إِلَّا هُوَ کی طرف جانے کے لئے یا صحیح راہنمائی حاصل کرنے کے لئے لا إلهَ إِلَّا انْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظلمین کی دعا بھی بڑی اہم دعا ہے جو پڑھتے رہنا چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ یہ فرمانے کے بعد کہ اللہ ہی تمہارا معبود ہے اور حقیقی معبود ہے۔فرمایا اتحی الْقَيُّوم یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اپنی ذات میں قائم ہے۔اور آنحی ہونے کی وجہ سے 357